Al-Risala · January 1994 · page 29

اسلامی انقلاب کی ہمہ گیری

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۲۹

میں اسلام کی اقدار پوری طرح سماج کے اوپر چھائی رہیں۔ بعد کی نسلوں میں جب اس انقلاب کے اثرات کم ہوئے اس وقت بھی ماحول میں کوئی بنیادی تبدیلی نہ آسکی۔ حتی کہ مسلم بادشاہوں کو بھی اس سے سرتابی کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔

اسلام کے ذریعہ توحید کا جو انقلاب آیا اس نے خدا کا رب ہونا اور انسان کا صرف عبد ہونا اتنے طاقت ور انداز میں لوگوں کے ذہنوں پر راسخ کر دیا کہ کسی کے لیے یہ ممکن نہ رہا کہ وہ دولت یا اقتدار پا کر اپنے آپ کو دوسروں سے اعلیٰ وارفع سمجھنے لگے، جیسا کہ پچھلی تاریخ میں ہوا کرتا تھا۔ نصر بن احمد بن اسد بن سامان (م ۲۷۹ھ) دولت السامانیہ (Samanids) کا بانی ہے۔ یہ حکومت ایران یا ماوراء النہر (Transoxania) میں ۸۱۹ء سے ۹۹۹ء تک قائم رہی۔ سلطان نصر نے جب نیشاپور کو فتح کرکے اس کو اپنی سلطنت میں شامل کیا تو وہاں اس نے ایک شاندار دربار منعقد کیا۔ تخت نشینی کی رسم کے افتتاح کے لیے ایک حافظ سے تلاوت کرائی گئی۔ وہ تلاوت کرتے ہوئے اس آیت پر پہنچے : یوم هم بارزون لا يخفى علی الله منهم شیئ۔ ۔ لمن الملك اليوم ۔ لله الواحد القهار (المومن (16) حافظ قرآن نے جب یہ آیت پڑھی تو اس کو سن کر سلطان نصر کے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی۔ شدتِ احساس کے تحت وہ تخت سے نیچے آگیا۔ اس نے تاج کو اپنے سر سے اتارا اور زمین پر سجدہ میں گر گیا۔ اس نے کہا : اے میرے رب، بلاشبہ بادشاہی تیری ہے نہ کہ میری۔

قدیم زمانہ شاہی مطلق العنانی کا زمانہ تھا۔ اس زمانہ کے غالب فکر میں بادشاہ کی برتری اور بقیہ انسانوں کی کمتری ایک مسلمہ کا درجہ اختیار کر گئی تھی۔ اس کا اثر عملی واقعات پر پڑتا تھا۔ اسلامی انقلاب نے شخصی بڑائی کے دور کو ختم کیا۔ اس نے انسانی برابری کے تصور کو ایک مسلمہ کی حیثیت سے تاریخ میں رواج دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسانی اعمال اس فکر کے زیر اثر انجام پانے لگے۔ پوری اسلامی تاریخ اس قسم کے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں موضوع کی نسبت سے میں دورِ آخر کے ایک واقعہ کا حوالہ دینا چاہتا ہوں۔ یہ مغل بادشاہ جہانگیر کا واقعہ ہے۔ اس واقعہ کو مورخ اسلام مولانا شبلی نعمانی نے "عدل جہانگیری" کے عنوان سے نظم کیا ہے۔ یہ پوری نظم اگلے صفحہ پر نقل کی جارہی ہے :

‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues

Printed page