اسلامی انقلاب کی ہمہ گیری
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۳۰
قصر شاہی میں کہ ممکن نہیں غیروں کا گزر کوئی شامت زدہ رہ گیر اُدھر آنکلا غیرتِ حسن سے بیگم نے طپنچہ مارا ساتھ ہی شاہِ جہانگیر کو پہنچی جو خبر حکم بھیجا کہ کنیز انِ شبستانِ شاہی نخوتِ حسن سے بیگم نے بصد ناز کہا ہاں مجھے واقعۂ قتل سے انکار نہیں اس کی گستاخ نگاہی نے کیا اُس کو ہلاک مفتی دین سے جہانگیر نے فتویٰ پوچھا مفتی دیں نے بے خوف و خطر صاف کہا لوگ دربار میں اِس حکم سے تھرا اٹھے ترکوں کو یہ دیا حکم کہ اندر جا کر پھر اُسی طرح اِسے کھینچ کے باہر لائیں یہ وہی نور جہاں ہے کہ حقیقت میں یہی اس کی پیشانیِ نازک پہ جو پڑتی تھی گرہ اب نہ وہ نور جہاں ہے نہ وہ اندازِ غرور اب وہی پاؤں ہر اک گام پہ تھراتے ہیں ایک مجرم ہے کہ جس کا کوئی حامی نہ شفیع خدمتِ شاہ میں بیگم نے یہ بھیجا پیغام مفتیِ شرع سے پھر شاہ نے فتویٰ پوچھا وارثوں کو جو دیے لاکھ درم بیگم نے ہم کو مقتول کا لینا نہیں منظورِ قصاص ہو چکا جب کہ شہنشاہ کو پورا یہ یقیں اُٹھ کے دربار سے آہستہ چلا سوئے حرم دفعۃً پاؤں پہ بیگم کے گرا اور یہ کہا ایک دن نور جہاں بام پہ تھی جلوہ فگن گرچہ تھی قصر میں ہر چار طرف سے قدغن خاک پر ڈھیر تھا اک کشتۂ بے گور و کفن غیظ سے آگئی ابروئے عدالت پہ شکن جا کے پوچھیں آئیں کہ سچ یا کہ غلط ہے یہ سخن میری جانب سے کرو عرض بہ آئینِ حسن مجھ سے ناموسِ حیانے یہ کہا تھا کہ بزن کشورِ حسن میں جاری ہے یہی شرعِ کہن کہ شریعت میں کسی کو نہیں کچھ جائے سخن شرع کہتی ہے کہ قاتل کی اُڑا دو گردن پر جہانگیر کے ابرو پہ نہ بل تھا نہ شکن پہلے بیگم کو کریں بستۂ زنجیر و رسن اور جلاد کو دیں حکم کہ ہاں تیغ بزن تھی جہانگیر کے پردہ میں شہنشاہِ زمن جا کے بن جاتی اوراقِ حکومت پہ شکن نہ وہ غمزے ہیں نہ وہ عربدۂ مہر شکن جن کی رفتار سے پامال تھے مرغانِ چمن ایک بیکس ہے کہ جس کا نہ کوئی گھر نہ وطن خوں بہا بھی تو شریعت میں ہے اک امرِ حسن بولے جائز ہے ، مارضا مند ہوں گر بچہ و زن سب نے دربار میں کی عرض کہ اے شاہِ زمن قتل کا حکم جو رُک جائے تو ہے مستحسن کہ نہیں اس میں کوئی شائبۂ حیلہ و فن تھی جہاں نور جہاں معتکفِ بیتِ حزن تو اگر کشته شدی آہ چه می کردم من
‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues