Al-Risala · June 1994 · page 25

ایک امکان

الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۲۵

میں شرکت کر سکیں۔ وہ پاکستانی ایئرویز کے ذریعہ کراچی سے دہلی آئے۔ اور دہلی سے ایٹالیہ کے ذریعہ براستہ روم وہ تیونس گئے۔ حکیم صاحب اپنے سفر نامہ میں لکھتے ہیں:

”اندرا گاندھی ایئرپورٹ پر الٹالیہ سے جب میں نے سوال کیا کہ کیا میرا سامان جو تیونس کے لئے بک ہے، پی آئی اے سے الٹالیہ میں منتقل ہوا گیا ہے۔ تو وہ حیران ہوئے، اچھا سامان ہے، گمپائی آئی اے نے تو ہمیں ذرا بھی اطلاع نہ دی۔ ان کا تو اب دفتر بھی بند ہو گیا ہے۔ نہ جانے سامان کہاں ہے۔ میں خود حیران ہو کہ وہ خاتون جو مجھے وی آئی پی کا مرتبہ دینے آئی تھیں۔ انھوں نے میرے سامان کو لاوارث چھوڑ دیا۔ خاصی پریشانی ہوئی۔ اندرا ایئرپورٹ پولیس کے لوگ کام آئے۔ سب تلاش میں لگ گئے۔ بالآخر سامان مل گیا اور اسے الٹالیہ میں رکھوا دیا گیا اور میں ۱۲ بجے رات اندر اگاندھی ایئر پورٹ کے خوب صورت لاؤنج میں آکر بیٹھ گیا۔ (نوائے وقت ، جولائی ۱۹۹۲) ایک بار ایک پاکستانی دانشور نے لکھا تھا: اسلام اور مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہنود برودزن یہود ہیں۔ پاکستانی اخباروں کو مذکورہ قسم کے واقعات سے سبق لینا چاہئے اور اپنے عوام کو صحیح صورتحال سے آگاہ کرنا چاہئے۔

رات کو ایک بجے سوئس ایئر کی فلائٹ نمبر ۱۸اکے اندر داخل ہوا۔ جدید طریقہ کے مطابق ایئر پورٹ اور جہاز کے درمیان معلق پل (Aerobridge) کا انتظام تھا۔ اس کے ذریعہ آدمی نہایت آسانی کے ساتھ چلتا ہوا جہاز کے اندر داخل ہو جاتا ہے۔ مگر مجھ کو ذاتی طور پر قدیم سیڑھی والا طریقہ زیادہ پسند ہے۔ قدیم طریقہ میں ایک رومانی لمس (romantic touch) ہے۔ یہاں قدیم اور جدید میں وہی فرق ہے جو گھوڑے اور موٹر سائیکل میں۔

راستہ میں انٹرنیشنل ہرالڈ ٹربیون (ا ستمبر ۱۹۹۲) پڑھا۔ اس میں بہت سی سبق آمیز خبریں نظر سے گزریں، اس کے صفحہ ۴ پر پچاس سال کی چھپی ہوئی ایک خبر دوبارہ چھاپی گئی تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ۱۰ ستمبر ۱۹۴۲ کو واشنگٹن حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ اس نے پچاس خاتون پائلٹوں کا انتخاب کیا ہے جو امریکہ میں ہوائی جہاز چلائیں گی۔ اس وقت ایئر ٹرانسپورٹ کمانڈ کے ڈپٹی چیف لفٹنٹ کرنل رابرٹ لو (Robert M. Love) نے پر فخر طور پر کہا تھا کہ اب میں یہ لفظ نہیں بولوں گا کہ ہمارا مین پاور بلکہ یہ کہوں گا کہ مین اٹرو مین پاور:

‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues

Printed page