Al-Risala · June 1994 · page 24

ایک امکان

الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۲۴

ایک سفر

ستمبر ۱۹۹۲ میں ایشیا، یورپ اور افریقہ کے درمیان ایک طویل سفر ہوا۔ اس سفر کے دوران مختلف قسم کے تجربات ہوئے۔ اس کی روداد اختصار کے ساتھ یہاں لکھی جاتی ہے۔ ۱۱ ستمبر کی رات کو گیارہ بجے کے بعد گھر سے دہلی ایئر پورٹ کی طرف روانہ ہوا۔ راستہ میں خوشگوار ہواؤں کے جھونکے استقبال کرتے ہوئے ملے۔ خیال آیا کہ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کو سانس لینے کے لئے ہر لمحہ تازہ آکسیجن کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے یہ کیا کہ آکسیجن کی مسلسل فراہمی کا انتظام فرما دیا۔ زمین کی سطح پر آدمی جہاں بھی جائے اس کے لئے زندگی بخش ہوا (آکسیجن) پیشگی طور پر موجود ہوگی۔ یہ انتظام اس بات کا خاموش اعلان ہے کہ کائنات کی تخلیق کے پیچھے ایک با معنی منصوبہ بندی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو طلب اور رسد میں یہ کامل ہم آہنگی ممکن نہ ہوتی۔

میں ایئر پورٹ کی انتظار گاہ میں بیٹھا ہوا تھا۔ میرے قریب کی سیٹ پر ایک کافی بوڑھی خاتون بیٹھی ہوئی نظر آئی۔ غیر شعوری طور پر میرے ذہن میں آیا کہ یہ معذور خاتون ایئر پورٹ کی لمبی مسافت طے کر کے کس طرح ہوائی جہاز تک پہنچے گی اتنے میں ایئر پورٹ کا ایک با وردی آدمی مخصوص پہیے والی گاڑی (Wheel chair) لے کر وہاں آگیا۔ گاڑی خوبصورت اور آرام دہ تھی۔ اس نے خاتون کو اس پر بٹھایا اور اس کو چلاتا ہوا نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔

ہوائی اڈوں پر ہر جگہ اس قسم کا مفت انتظام ہوتا ہے۔ مسافر کے لئے صرف اطلاع کر دینا کافی ہے۔ اس کے بعد ہوائی اڈہ یا ایئر کمپنی کا آدمی گاڑی لے کر آئے گا اور مسافر کو اس پر بٹھا کر احترام کے ساتھ اس کو جہاز تک پہنچادے گا۔ معذور آدمی خصوصی توجہ کا مستحق ہوتا ہے۔ آخرت میں بھی معذوروں کے ساتھ یہی معاملہ ہوگا، بشرطیکہ وہ اللہ کی نظر میں فی الواقع معذور قرار پائیں۔ اندرا گاندھی انٹر نیشنل ایئر پورٹ پر بیٹھا ہوا تھا کہ وہ قصہ یاد آیا جو میں نے پاکستان کے اخبار نوائے وقت ۱۰ جولائی ۱۹۹۲ میں پڑھا تھا۔

پاکستان کے حکیم محمد سعید صاحب جون ۱۹۹۲ میں کراچی سے تیونس گئے تھے تاکہ ایک طبی کانفرنس

‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues

Printed page