Al-Risala · June 1994 · page 27

ایک امکان

الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۲۷

اسی کے ساتھ انھوں نے جاپان سے رابطہ قائم کیا۔ جاپانیوں نے دوسری عالمی جنگ کی ابتدا میں جب پینانگ پر قبضہ کیا تو برطانوی فوج کے بہت سے ہندوستانی سپاہی گرفتار ہو کر جاپان لے جائے گئے۔ سبھاش چندر بوس کی درخواست پر جاپان نے ان ہندوستانی سپاہیوں کو رہا کر کے انھیں سبھاش چندر بوس کے حوالے کر دیا۔ انھوں نے دوسرے ہندوستانی افراد کو ملا کر آزاد ہند فوج بنا لی۔ اس تربیت یافتہ فوج کے تین ڈویژن تھے۔ ان میں سے ہر ڈویژن میں ۱۰ ہزار مسلح سپاہی تھے۔ اس کے علاوہ ۲۰ ہزار والینٹر تھے۔

اکتوبر ۱۹۴۳ میں سبھاش چندر بوس نے انڈی پنڈنٹ انڈین گورنمنٹ کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد وہ رنگون کے راستہ سے ہندوستان کی سرحد پر پہنچ گئے۔ یہاں ان کا مقابلہ برطانوی فوج سے ہوا۔ برطانوی فوج کے پاس ہوائی جہاز تھے۔ مگر سبھاش چندر بوس کی فوج کسی ہوائی حمایت (aerial support) سے خالی تھی۔ چنانچہ اس کو شکست ہوئی۔ ۱۹ اگست ۱۹۴۵ کو سبھاش چندر بوس ایک حادثہ کا شکار ہو کر مرگئے۔

سبھاش چندر بوس نے برٹش راج کے خلاف مسلح بغاوت (armed revolt)

کا منصوبہ بنایا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ مجھے خون دو اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ تم کو آزادی دوں گا: Give me blood and I promise you freedom. ہزاروں آدمی سبھاش چندر بوس کی اس پکار سے متاثر ہوئے۔ انھوں نے اپنا خون پیش کر دیا۔ مگر مسٹر بوس سمیت ہزاروں آدمیوں کا خون کوئی نتیجہ پیدا نہ کر سکا۔ دوسری طرف مسٹر بوس مہاتما گاندھی کے سخت خلاف تھے۔ وہ گاندھی جی اور ان کے غیر تشددانہ اور مصالحانہ انداز (conciliatory attitude) کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے دیکھیے تو مہاتما گاندھی آزادی کا انقلاب لانے میں کامیاب ہو گئے۔ اور سبھاش چندر بوس ناکام رہے۔ جرمنی میں ہم جنس کے تعلقات کا رواج ہے۔ مگر اس قسم کے تعلق کو قانونی حیثیت حاصل نہیں، جیسا کہ مثلاً ڈنمارک اور نیوزی لینڈ میں ساتھ رہنے کے معاہدہ (cohabitation contract) کے نام پر موجود ہے۔ چنانچہ اگست ۱۹۹۲ کے آخر میں جرمنی کے تقریباً پچاس شہروں میں جرمن مردوں اور عورتوں کے ایک طبقہ نے مظاہرہ کیا وہ سڑکوں پر گھومے اور یہ مانگ کی کہ ہم جنسی کی شادی

‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues

Printed page