Al-Risala · June 1994 · page 28

ایک امکان

الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۲۸

(same-sex marriage) کو قانونی حیثیت دے دی جائے۔ جوڑے اسی طرح ایک دوسرے کے وارث ہوں جس طرح عام منکوحہ مرد اور عورت ایک دوسرے کے وارث ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں میں نے ایک جرمن مسافر سے کچھ سوالات کئے ۔ میری عادت ہے کہ اکثر میں سوالات کی صورت میں گفتگو کرتا ہوں ۔ اس نے میرے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ نامساوی قوانین جو کہ اس وقت ہمارے یہاں ہیں ان کا خاتمہ کر دینا چاہئے: I think these unequal laws that we now have must be knocked down. اس نے اپنا نام ایڈتھ ماریا اسٹال (Edith Maria Stoll) بتایا۔ میں نے کہا کہ نکاح کے موجودہ قوانین اُن ایکول نہیں ہیں بلکہ وہ نیچرل ہیں۔ یہ ایکول اور اُن ایکول کا مسئلہ نہیں، بلکہ نیچرل اور اُن نیچرل کا مسئلہ ہے۔

ہوائی جہاز کی چھت میں جگہ جگہ ویڈیو لگا ہوا تھا۔ اس پر جہاز سے متعلق معلومات تصویر کی صورت میں دکھائی جا رہی تھیں۔ دنیا کا نقشہ بن کر اس پر ایک لال لکیر یہ رینگتی ہوئی نظر آتی تھی۔ جو بتا رہی تھی کہ اب جہاز کہاں پہنچا اور کس طرف بڑھ رہا ہے۔ اسی کے ساتھ لمحہ بہ لمحہ بتایا جا رہا تھا کہ اب جہاز اپنی منزل سے کتنی دور ہے۔ آخری مرحلہ میں گنتی بتا رہی تھی کہ اب جہاز ۶۰ کلومیٹر دور ہے، اب ۵۰ کلومیٹر دور ہے، اب ۳۰ کلومیٹر دور ہے۔ اس طرح کم ہوتے ہوتے گنتی آخر میں پہنچ گئی اور جہاز اپنی منزل پر اتر گیا۔

میں نے سوچا کہ یہی معاملہ انسان کی ذات کا بھی ہے۔ جوانی کی عمر تک زندگی اوپر کی طرف جاتی ہے ۔ اس کے بعد تنزل شروع ہوتا ہے۔ بال میں سفیدی ظاہر ہو کر بتاتی ہے کہ اب دور زوال شروع ہو گیا۔ اسی طرح آنکھ، دانت اور دوسرے تمام اعضا کمزور ہونے لگتے ہیں۔ جسم کا ایک ایک حصہ آدمی کا ساتھ چھوڑتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہاں تک کہ آخر وقت آ جاتا ہے۔ موت سے پہلے ظاہر ہونے والے قدرت کے نشانات کو آدمی اگر پڑھ سکے تو موت کے امتحان میں پورا اُترنا اس کے لئے آسان ہو جائے۔

جہاز ۳۹ ہزار فٹ کی بلندی پر اُڑتا ہوا آٹھ گھنٹہ میں دہلی سے نیویارک پہنچ گیا۔ میں نے

‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues

Printed page