Al-Risala · June 1994 · page 26

Hinduism in the modern world

الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۲۶

کہ امریکہ نمبر ۲ پر چلا جائے گا۔

ایک بار برو سلس میں نماز پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ یہاں میں مشرق کی سمت میں نماز پڑھ رہا ہوں اگر کوئی شخص مجھ کو دیکھ کر کہے کہ ہندوستان میں تو آپ مغرب کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے تھے اور بلجیم میں مشرق کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے ہیں۔ کیا آپ نے اپنا قبلہ بدل دیا۔ حالاں کہ اسلام میں جان بوجھ کر اپنا قبلہ بدلنا کفر کے ہم معنی ہے۔

یہ تنقید بظاہر صحیح مگر باعتبار حقیقت غلط ہوئی کیوں کہ مسلمان کا اصل قبلہ مشرق یا مغرب نہیں ہے، بلکہ کعبہ ہے۔ ہندوستان میں کعبہ چونکہ مغرب کی سمت میں واقع ہے اس لئے وہاں مغرب کے رخ پر نماز ادا کی جاتی ہے۔ بلجیم میں کعبہ مشرق کے رخ پر ہو جاتا ہے اس لئے یہاں مشرق کے رخ پر نماز ادا کی جاتی ہے۔

لاہور کے اردو روزنامہ نوائے وقت (۱۳ اگست ۱۹۹۲) میں میں نے بلجیم کے بارہ میں ایک رپورٹ پڑھی تھی۔ یہ بلجیم کے ایک سیاح سمٹ رونی سے نوائے وقت کے نمائندہ طاہر ملک کی گفتگو پر مشتمل تھی۔ بلجیم کو دیکھنے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ مذکورہ سیاح کی بات تقریباً صد فیصد درست ہے۔ مزید یہ کہ اس نے جو بات پاکستان کے بارہ میں کہی، وہی ہندوستان پر بھی پوری طرح چسپاں ہوتی ہے۔ اس رپورٹ کا ایک حصہ یہ ہے:

"میں چالیس سے زیادہ ممالک کی سیاحت کر چکا ہوں۔ مگر پولیس کی بہتات پاکستان میں سب سے زیادہ دیکھی ہے۔ یہاں بے شمار چیکنگ پوسٹ ہیں جہاں بلاوجہ شہریوں کو روک کر تلاشی لی جاتی ہے بلجیم میرا ملک ہے۔ وہاں نہ تو مسلح پولیس ہوتی ہے اور نہ ہی عوام کو روک کر جگہ جگہ چیک کیا جاتا ہے۔ صوبہ سرحد میں عام افراد کے ہاتھوں میں سرعام اسلحہ پہلی بار دیکھ کر میں خوف زدہ ہو گیا۔ ان خیالات کا اظہار بلجیم سے پاکستان سیاحت کیلئے آئے سمٹ رونی نے نمائندہ نوائے وقت کے سوال پر کہ آپ کو پاکستان میں سب سے منفرد کیا چیز لگی؟ کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ ان کے ملک میں جرائم اور دہشت گردی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بلجیم مکمل طور پر ایک پرامن ملک ہے۔ انھوں نے بتایا کہ بلجیم میں قانونی طور پر پولیس، فوج اور عام شہریوں سمیت کسی کو آبادی میں سرعام اسلحہ لے کر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اپنی بات کی وضاحت

‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues

Printed page