Al-Risala · June 1994 · page 39

Hinduism in the modern world

الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۳۹

(St. Michael's Cathedral) اس کے بعد آگے بڑھے تو بروسیلز کا بڑا چرچ نظر آیا۔ وہ کھلا ہوا تھا۔ زائرین کا ہجوم جاتا اور باہر نکلتا ہوا نظر آیا۔ میں نے سوچا کہ اگر کوئی شخص بروسیلز کی مسجد اور یہاں کے کیتھڈرل کے اس فرق کو دیکھ کر خود مسیحیت اور اسلام کے بارے میں رائے قائم کرے اور کہے کہ دیکھو، مسیحی مذہب شاندار طور پر زندہ ہے اور اسلام کی عمارت پر قفل پڑ چکے ہیں تو بظاہر صحیح دکھائی دینے کے باوجود وہ ایک لغو بات ہوگی۔ کیوں کہ یہ ایک مقامی معاملہ ہے نہ کہ عمومی طور پر پوری دنیا کا معاملہ۔ بروسیلز کا یہ تاریخی کیتھڈرل مکمل طور پر پتھروں کا بنا ہوا ہے۔ اس کی عمارت پر ہیبت حد تک بلند اور عظیم ہے۔ وہاں مفت تقسیم کے لئے ایک پمفلٹ موجود تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ گیارہویں صدی عیسوی میں اس مقام پر ایک بڑا رومن چرچ (Romanesque church) تھا ۔ اس کے کھنڈر پر ہنری اول (Henry کے حکم سے تیرہویں صدی میں ایک بڑا چرچ بنایا گیا۔ اس کے بعد تین سو سال تک اس میں تعمیرات جاری رہیں ۔ شاہ چارلس پنجم (Charles V) کے زمانہ میں موجودہ عظیم عمارت کی تکمیل ہوئی۔ اس کے ساتھ ایک مذہبی تعلیمی ادارہ بھی ہے۔ یہاں مسیحیت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کو چرچ کالج (collegiate church of SS Michael) کہا جاتا ہے۔

تعمیری عظمت کے اعتبار سے یہ کیتھڈرل یہاں کی مسجد سے بہت زیادہ بڑا ہے۔ مگر کیتھڈرل کے چاروں طرف صرف عمارتوں کا ماحول ہے۔ جب کہ مسجد کے اردگرد ہرا بھرا ماحول ہے۔ مسجد گویا ایک بہت بڑے پارک کے درمیان کھڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ تاہم جیسا کہ عرض کیا گیا، کیتھڈرل کے اندر زبر دست سرگرمیاں تھیں لیکن مسجد میں اس وقت کوئی انسانی سرگرمی نظر نہیں آئی۔ کیتھڈرل کے اندر مختلف قسم کے لٹریچر مسیحیت سے متعلق رکھے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک کو میں نے لے لیا۔

۱۳ دسمبر کی شام کو کانفرنس کا افتتاحی اجلاس تھا۔ یہ بروسیلز سے ۳۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر لووین (Louxain) کے اسپورٹس سنٹر میں رکھا گیا تھا۔ یہ سنٹر غیر معمولی طور پر بڑا ہے۔ اس کے جس ہال میں اجلاس کا انتظام تھاوہ اپنی غیر معمولی تعمیرات سے عجیب پر اثر معلوم ہو رہا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues

Printed page