Hinduism in the modern world
الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۴۱
تک پہنچائیں۔
شام کا کھانا فیکلٹی کلب میں تھا۔ یہ لووین یونیورسٹی کے تحت ہے اور اپنی وسعت کے اعتبار سے خود ایک پوری دنیا ہے۔ میں نے قصدًا گوشت نہیں لیا۔ صرف سادہ سبزی پر قناعت کی۔ کھانے سے فراغت کے بعد ہم لوگ باہر گیٹ پر آئے۔ میرے ساتھ ڈاکٹر لیونارڈ اور ڈاکٹر ثانی اثنین تھے۔ گیٹ پر کھڑے ہوئے آدمی نے حسب قاعدہ واکی ٹاکی پر، ہمارے ڈرائیور کو آواز دی، وہ ابھی کھانے میں مشغول تھا اس لئے وہ چند منٹ کی تاخیر سے پہنچا۔ گیٹ پر ہم لوگوں کو کھڑا دیکھ کر وہ دوڑتا ہوا اس مقام پر گیا جہاں گاڑیاں پارک کی گئی تھیں۔ اور فوراً ہی گاڑی لے کر آگیا۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے وہ آیت یاد آگئی کہ اذانودي للصلاة من يوم الجمعة فاسعوا إلى ذكر الله۔ میں نے سوچا کہ آج دنیا کے بے شمار لوگ تیز رفتاری کے ساتھ دوڑ رہے ہیں مگر دین کے لئے کوئی دوڑنے والا نہیں۔ اگر بظاہر کوئی شخص دین کے لئے دوڑ رہا ہے تو وہ بھی دین کے اس پہلو کے لئے ہے جس میں دنیوی اور مادی قدر پیدا ہو چکی ہے۔ دینی سرگرمیوں کے ہجوم میں دین کا وہ میدان بالکل خالی پڑا ہوا ہے جہاں دوڑنے میں کوئی دنیوی یا مادی کشش موجود نہیں۔ اس کانفرنس میں اٹلی کے لوگ کثرت سے شریک ہیں۔ ہوائی جہاز سے آنے والوں کے علاوہ ایک اسپیشل ٹرین روم سے یہاں آئی جس میں دو ہزار اطالوی سفر کر کے بروسیلز پہنچے ہیں۔ روم سے آنے والے ایک صاحب سے بات ہو رہی تھی۔ انھوں نے میرا کپڑا دیکھ کر پوچھا کہ اس کو انڈیا میں کیا کہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ کرتا۔ پھر میں نے کہا کہ عربی میں اس کے لئے قمیص کا لفظ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اطالین میں اس کو کمیشا (Kamisha) کہا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ عربی اور اطالین میں بہت سے مشترک الفاظ موجود ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دور اول میں عربوں اور اطالیوں کے درمیان کتنا زیادہ تعلق پایا جاتا تھا۔
۴ ستمبر کو کانفرنس کے تمام شرکاء مختلف گروپوں میں تقسیم کر دئے گئے۔ ہر گروپ کے لئے الگ الگ موضوع مقرر کر دیا گیا جس پر وہ ڈسکشن کریں۔ اس طرح آٹھ الگ الگ ہال میں آٹھ الگ الگ اجتماعات ہوئے۔ ہر ایک میں کچھ منتخب لوگوں نے اپنے پیپر پیش کئے اور اس کے بعد ان پر بحث و تنقید ہوئی۔ موضوعات حسب ذیل تھے :
‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues