Al-Risala · June 1994 · page 44

Hinduism in the modern world

الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۴۴

ماحول کو دعوتی مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے۔ اس کے نظری پہلو کو لے کر بے فائدہ طور پر اس سے الجھنا ہرگز دانش مندی نہیں۔

ایک مسیحی مقرر نے کہا تھا کہ اسلام میں فکری جبریت ہے۔ اسلام تنقید کو پسند نہیں کرتا۔ اور یہی وجہ ہے کہ اسلام دوسروں کے ساتھ مفاہمت نہیں کر پاتا۔ مراکش کے ایک عرب عالم نے اس کی تردید میں کہا کہ اصل معاملہ اس کے برعکس ہے۔ اسلام میں نہ صرف تنقید کی اجازت ہے۔ بلکہ اسلام میں تنقید کو حد درجہ پسند کیا گیا ہے۔ اپنے خیال کی تائید میں انہوں نے خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ قول پیش کیا کہ اللہ اس آدمی پر رحم فرمائے جو مجھ کو میرے عیوب تحفہ میں دے (رَحِمَ اللہ امرأ أهدى إلى عيوبي)

یہ بات نہایت درست ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام سے پہلے دور فتنہ میں تنقید کا دروازہ بند تھا۔ اسلام کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس نے بند دروازہ کو کھولا اور صحابہ و تابعین کے زمانہ میں ہر شعبہ حیات میں اس کی شاندار عملی مثالیں قائم ہوئیں۔ یہ جمود اور زوال کی نشانی ہوگی اگر تنقید کو ناپسند کیا جائے یا اس کے دروازہ کو دوبارہ بند کرنے کی کوشش کی جائے۔ ۴ ستمبر کو شام کا کھانا مالین کے بشپ کے یہاں تھا۔ کانفرنس کے تمام شرکاء وہاں لیجائے گئے۔ بشپ کی رہائش گاہ غیر معمولی طور پر بڑی اور شاندار تھی۔ چنانچہ اس کو "پلیس" کہا جاتا ہے۔ تاہم اس پلیس کے اندر ہر چیز بالکل سادہ تھی۔ حتیٰ کہ ڈنر بھی سادہ انداز میں دیا گیا تھا۔ صدیوں پرانے اس محل میں بہت سے بشپ نے قیام کیا ہے۔ ان سب کی تصویریں ان کے سال پیدائش اور سال وفات کے ساتھ دیواروں پر پینٹنگ کی صورت میں نقش کی گئی تھیں۔

ایک مسیحی نے اپنا تعارف مانک (monk) کے لفظ سے کرایا۔ میں نے پوچھا کہ مانک نکاح نہیں کرتے۔ انھوں نے کہا ہاں۔ پھر میں نے کہا کہ آپ اپنے تجربہ کی روشنی میں بتائیے کہ مانک بننے کے بعد آپ کو اپنی زندگی میں تنہائی (loneliness) کا احساس ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا ہاں تنہائی کا احساس ہوتا ہے اور بعض اوقات بے حد شدید ہوتا ہے۔ میں نے سوچا کہ جو لوگ دین کی خدمت کے لئے غیر فطری طریقہ اختیار کریں اس کا سب سے پہلا نقصان خود ان کو بھگتنا پڑتا ہے۔ کیوں کہ اس طرح ان کی شخصیت کا ارتقاء نہیں ہو سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues

Printed page