خبرن۱۔ مہ اسلامی مرکز ۹۵
الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۴۵
خبرن۱۔ مہ اسلامی مرکز ۹۵
ا راشٹریہ سہارا کے نمائندہ منسٹر الکا کوشک نے ۲ اکتوبر ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا تعلق زیادہ تر کشمیر کی درگاہ حضرت بل کی تاریخ اور اس کے معاملات اور مسجد کے بارہ میں شرعی احکام سے تھا۔
۲ انگلش اخبار امرت بازار پتریکا کے نمائندہ مسٹر دنیش شرما نے ۲ اکتوبر ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کے دوران انھیں بتایا گیا کہ مسجد مقدس جگہ ہے۔ وہ عبادت کے لئے ہے۔ مسجد کو ہتھیاروں سے یا سیاسی سرگرمیوں سے پاک رکھنا چاہئے تاکہ مسجد کا مذہبی اور روحانی ماحول خراب نہ ہو۔
۳ انگریزی اخبار سنڈے آبزرور کے نمائندہ مسٹر راجیو سکینہ نے ۲ اکتوبر ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ "امتیازی سلوک" کے خلاف احتجاج بے فائدہ ہے۔ امتیا ز زندگی کی ایک حقیقت ہے جو ہمیشہ اور ہر جگہ موجود رہتی ہے۔ ہم کو چاہئے کہ امتیاز کو چیلنج کے روپ میں لیں نہ کہ ظلم کے روپ میں۔
۴ ٹائمس آف انڈیا کے نمائندہ مسٹر عسکری زیدی نے ۲۸ اکتوبر ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کا تعلق بابری مسجد کے مسئلہ سے تھا۔ ان کو وہ نقطہ نظر بتایا گیا جو اس معاملہ میں قرآن وسنت کی رو سے مسلمانوں کو اختیار کرنا چاہئے۔
۵ ہندی اخبار راشٹریہ سہارا کے نمائندہ مسٹر جو ہر عبد اللہ نے ۳ اکتوبر ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ کشمیر کے سلسلہ میں سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا گیا کہ خواہ کشمیر کا مسئلہ ہو یا غیر کشمیر کا، ہر جگہ حقیقت سے مطابقت کرنے میں کامیابی ہے۔ حقیقت سے ٹکرانے کا نتیجہ یکطرفہ تباہی کے سوا کچھ اور نہیں۔ ۶ انڈیا پیس سنٹر (مدراس) کے تحت ناگپور میں نومبر ۱۹۹۳ کے پہلے ہفتہ میں ایک نیشنل اسٹڈی کانفرنس منعقد کی گئی ۔ اس کا موضوع تھا:
Minorities in India and the National Mainstream
منتظمین نے صدر اسلامی مرکز کو دعوت دی کہ وہ اس میں ۶ نومبر ۱۹۹۳ کو اختتامی خطاب
‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues