Al-Risala · June 1994 · page 49

Minorities in India and the National Mainstream

الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۴۹

انگریزی روزنامہ ہندوستان ٹائمس کے سینئر سپرنٹنڈنٹ مسٹرجے رائے نے۴ دسمبر۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے موجودہ مسائل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ نومبر۱۹۹۳ کا ریاستی الیکشن ایک اعتبار سے گویا ریفرنڈم تھا۔ یوپی میں بی جے پی کی حکومت نہ بننا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ رام مندر بنانا یا دوسری مسجدوں کو ڈھانا یہ ہندو کا مین کنسرن نہیں۔ یہ انٹرویو ہندوستان ٹائمس کے شمارہ ۵ دسمبر ۱۹۹۳ میں چھپا ہے۔ ہندی اخبار ہندوستان کے نمائندہ سٹر موہن سنگھ نے ۱۲ دسمبر ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر نیشنل اشوز سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ہندو اور مسلمان دونوں اپنی فطرت کے تحت مل جل کر ہی رہنا چاہتے ہیں۔ مگر نا اہل لیڈر جھوٹے آنسو بہا کر دونوں کے درمیان گرہ بڑھکاتے رہتے ہیں۔

آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی نے ۱۶ دسمبر ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر نشر کی۔ اس تقریر کا تعلق کیریکٹر بلڈنگ سے تھا۔ اس میں بتایا گیا کہ سماجی زندگی میں ایک فرد کو کامیابی اور ترقی کے لئے کیا کرنا چاہئے۔

امریکی اداره (International Religious Foundation) کے ایگزیکٹیو ڈائرکٹر ٹامس والش (Thomas G. Walsh) ۱۶ دسمبر ۱۹۹۳ کو مرکز میں آئے اور صدر اسلامی مرکز سے انٹر ریلیجس ڈائیلاگ کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا۔ اس کی اہمیت سے اتفاق کرتے ہوئے انھیں بتایا گیا کہ اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے درمیان ٹکراؤ کے بجائے ہم آہنگی کی فضا پیدا کی جائے۔

بھارتیہ آریہ پرتی ندھی سبھا کے زیر اہتمام ۱۹ دسمبر ۱۹۹۳ کو ایک جلسہ ہندو مہاسبھا بھون (دہلی) میں ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور ہندو مسلم اتحاد اور شانتی کے موضوع پر تقریر کی۔

امریکہ دلاس (انگلینڈ) میں دسمبر ۱۹۹۳ میں انٹرنیشنل سیرت کانفرنس ہوئی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور سیرت کے موضوع پر ایک پیپر پیش کیا۔ اس سفر کی رو داد انشاء اللہ رسالہ میں شائع کردی جائے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues

Printed page