Al-Risala · June 1994 · page 48

Minorities in India and the National Mainstream

الرسالہ، جون ۱۹۹۴، صفحہ ۴۸

انگریزی ہفت روزہ آرگنائزر کے نمائندہ مسٹروینو گوپالن اور مسٹر پرمود کمار نے ۲۴ نومبر ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا تعلق ہندوستان میں ہندو مسلم تعلقات نیز مسلم مسائل سے تھا۔ فیچر اینڈ نیوز الائنس (Feature & News Alliance) کے نمائندہ مسٹر ایم اے سراج نے ۲۸ نومبر ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا تعلق زیادہ تر اس سوال سے تھا کہ بابری مسجد کے انہدام کے بعد مسلمانان ہند کا عملی نقشہ کیا ہونا چاہئے۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ بھی ہے کہ نزاعی معاملات میں آئیڈیل پر اصرار نہ کرتے ہوئے عملی حل کو قبول کر لیا جائے۔ ہندی اخبار راشٹریہ سہارا کے نمائندہ مسٹر برزنے ۳۰ نومبر ۱۹۹۳ کو ٹیلیفون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا تعلق زیادہ تر الیکشن کے موجودہ نتائج سے تھا ان کو بتایا گیا کہ اس الیکشن کا ایک امید افزا پہلو یہ ہے کہ اس میں کمیونل اشوز کو دوبارہ مقبولیت حاصل نہ ہو سکی۔ واشنگٹن کے جرنل ای آئی آر (Executive Intelligence Review) کی دو نمائندہ لنڈا ڈی ہولیوز اور سوسن بر اڈی نے یکم دسمبر ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا تعلق دو چیزوں سے تھا۔ فیملی پلاننگ کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر۔ انڈیا میں مسلمانوں کا مستقبل۔ اسلامک ریپبلک نیوز ایجنسی (ارنا) کے نمائندہ مسٹر سعید عالم نے یکم دسمبر ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا تعلق زیادہ تر سلمان رشدی کا مسئلہ، حالیہ ریاستی الیکشن کا رزلٹ ، بابری مسجد کے مسئلہ کا حل سے تھا۔ ہندی اخبار جن ستا کے نمائندہ مسٹر رام بہادر رائے نے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا جو جن ستا کے شمارہ ۲۵ دسمبر ۱۹۹۳ میں شائع ہوا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر دو چیزوں سے تھا۔ بابری مسجد، ریاستوں کا موجودہ الیکشن اور مسلمان۔ بی بی سی (لندن) کی خاتون نمائندہ جلین رائٹ (Gillian Wright) نے ۲۲ دسمبر ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق اسلام کے بعض عقائد اور عبادات تھا۔ نیز ہندوستان میں مسلمانوں کے مسائل پر بھی مختصر گفت گو ہوئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1994 All issues

Printed page