پچیس سال
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۷
پچیس سال
البرٹ سابن (Albert Sabin) ایک امریکی سائنس داں ہے۔ وہ ۱۹۰۶ میں پولینڈ میں پیدا ہوا۔ اس کی عمر پندرہ سال کی تھی کہ اس کے والدین ترک وطن کر کے امریکہ آگئے ۔ یہیں ۳ مارچ ۱۹۹۳ کو اس کی وفات ہوئی۔ اس نے پچیس سال کی لگاتار محنت اور تجربہ سے ایک ایسا پولیو ویکسین (polio vaccine) تیار کیا جو منہ کے راستہ سے استعمال کیا جاسکتا تھا۔ جب کہ عام طور پر ویکسین انجکشن کے ذریعہ اندر داخل کیے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اب تک ۵۰۰ ملین لوگ اس کی ایجاد سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔
استحقاق کے باوجود البرٹ سابن کو نوبیل انعام نہیں ملا۔ مگر اس نے اس کی پروا نہ کی۔ اس نے کہا کہ میرے لیے یہی کافی ہے کہ مجھے ایک ایسی جگہ مل جائے جہاں میں اپنا کام کر سکوں : I only ask for a place to work. اپنی تحقیق کے دوران اس کو بے شمار مایوسیوں سے دوچار ہونا پڑا۔ مگر مایوسیوں اور ناکامیوں سے بے پروا ہو کر اس نے اپنا عمل جاری رکھا۔ یہاں تک کہ اس کی تحقیق آخری کامیابی کی منزل تک پہنچ گئی۔ وہ اکثر کہا کرتا تھا کہ آپ کتنے ہی اچھے ہوں ، آپ ایک سائنس داں نہیں بن سکتے جب تک مایوسیوں کے ساتھ جینا نہ سیکھیں :
No matter how good you are, you cannot be a scientist unless you learn to live with frustration. یہی موجودہ دنیا میں کامیابی کا عام اصول ہے۔ یہاں کوئی قابل ذکر کامیابی صرف اس با ہمت شخص کے لیے ہے جو ۲۵ سال“ تک یکسو ہو کر عمل کر سکے۔ جو ناکامیوں کے درمیان اپنا سفر جاری رکھے۔ جو بار بار گرنے کے باوجود بار بار اٹھے۔ جو اعتراف اور تحسین سے بے پروا ہو کر اپنے مقصد کے حصول میں سرگرم رہے۔ جس کی طاقت کا خزانہ اس کے اپنے اندر ہو کہ اس کے باہر۔ جو لوگ عدم اعتراف کی شکایت کریں۔ جو ناموافق حالات سے گھبرا اٹھیں۔ جن کی نظر مواقع سے زیادہ مسائل پر رہتی ہو، وہ اس دنیا میں کبھی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues