دو طریقہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۸
دو طریقہ
دادا قسم کے ایک آدمی کو اپنے ایک پڑوسی سے شکایت ہو گئی۔ دادا کو غصہ آگیا۔ اس نے کہا : دیکھو، میں اس شخص کو سبق سکھاتا ہوں۔ اس کے بعد اس نے اپنے پڑوسی کو ذلیل کرنے اور نقصان پہنچانے کی تدبیریں شروع کر دیں۔ اس کے نتیجہ میں پڑوسی بظاہر خاموش ہو گیا۔ مگر اس کے دل میں ایک اور زیادہ شدید چیز پیدا ہو گئی۔ وہ نفرت تھی۔ اس کی نفرت بڑھتی رہی، بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ ایک دن موقع پا کر اس نے دادا کے پورے خاندان کو تباہ و برباد کر دیا۔
اس کے مقابلہ میں دوسری مثال تاجر کی ہے۔ تاجر کو اگر اپنے ایک گاہک سے شکایت ہو جائے تو وہ گاہک کو سبق پڑھانے کے ذہن سے نہیں سوچے گا۔ اس کے بجائے وہ گاہک کا دل جیتنے کی کوشش کرے گا۔ یہاں تک کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ خوش ہو کر اور زیادہ پختہ طور پر اس کا گاہک بن جائے گا۔
شکایت کے معاملہ میں پہلا طریقہ اسلام کا طریقہ نہیں۔ صرف دوسرا طریقہ ہی اسلام کا طریقہ ہے۔ اس کو قرآن میں ان لفظوں میں بتایا گیا ہے کہ اچھا سلوک اور برا سلوک دونوں برابر نہیں ہو سکتے کسی شخص سے تم کو برائی پہنچے تو تم اس کا بدلہ اچھائی کے ساتھ دو۔ اس کے بعد تم دیکھو گے کہ جو شخص تمہارا دشمن دکھائی دے رہا تھا وہ تمہارا گہرا دوست بن گیا ہے (حم السجدہ ۳۴)
سبق سکھانے کا طریقہ باہمی نفرت پیدا کرتا ہے ، دل جیتنے کا طریقہ باہمی دوستی کو بڑھاتا ہے۔ پہلی صورت میں مسئلہ بڑھتا ہے ، دوسری صورت میں مسئلہ کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ پہلا طریقہ حیوانیت کا طریقہ ہے اور دوسرا طریقہ انسانیت کا طریقہ ۔ پہلے طریقہ میں روحیں گندی ہوتی ہیں۔ دوسرے طریقہ میں روحوں کو صفائی اور سکون کی نعمت حاصل ہوتی ہے۔ پہلا طریقہ انسانی پستی کا طریقہ ہے اور دوسرا طریقہ انسانی بلندی کا طریقہ ۔
جو لوگ معاملہ پیش آنے کے بعد بھڑک اٹھتے ہیں اور فوری رد عمل کے تحت اپنا کام کرتے ہیں وہ سبق سکھانے والے طریقہ کو اپناتے ہیں۔ لیکن جو لوگ معاملہ پیش آنے کے بعد سوچیں اور نتیجہ کو سامنے رکھ کر اپنا اقدام کریں وہ ہمیشہ دل جیتنے والے طریقہ کو اختیار کریں گے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues