ذکر کی حقیقت
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۱۰
ذکر کی حقیقت
ایک صاحب نے پوچھا کہ حدیث میں اذکار کی جو روایتیں ہیں، ان کی کیا حقیقت ہے اور وہ کس حد تک ضروری ہیں۔ کیا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ مختلف اوقات میں ان اذکار کو پڑھنے کا اہتمام کرے۔ میں نے کہا کہ یہ ضروری اور غیر ضروری کا معاملہ نہیں، یہ تو ایک ایسی چیز ہے جو ایمان کے بعد لازماً آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ جہاں ایمان ہوگا وہاں ذکر بھی ضرور پایا جائے گا۔ ایمان اور ذکر دونوں کا ایک دوسرے سے الگ ہونا ممکن نہیں۔
ذکر کیا ہے۔ ذکر دراصل ایک اندرونی حقیقت کا لفظی اظہار ہے۔ آپ کو غیر معمولی خوشی ہو تو آپ بے اختیارانہ طور پر ہنس پڑتے ہیں۔ آپ کو شدید درد ہو تو بے اختیارانہ طور پر آپ کی زبان سے آہ کا لفظ نکل جاتا ہے۔ اسی طرح جو شخص حقیقی معنوں میں خدا کا مومن بنے، اس کا سینہ خدا کی عظمت و جلال سے بھر جائے گا، اس کی روح خدا کے کمالات کے احساس میں نہا اٹھے گی ۔ اور جب ایسا ہوگا تو بے اختیارانہ طور پر خدا کی یاد کے کلمات بھی اس کی زبان سے نکلنے لگیں گے۔ انھیں یاد کے کلمات کا نام ذکر ہے۔ جو شخص واقعہ خدا کو پالے، اس سے یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ تم خدا کا ذکر کرو۔ ایسے شخص کے لیے تو ذکر ایک بے اختیارانہ عمل بن جاتا ہے۔ ایسے شخص کو ہر مشاہدہ میں خدا کا جلال و کمال دکھائی دے گا۔ ہر تجربہ اس کو خدا کی یاد دلانے والا بن جائے گا۔ اس کا سینہ خدا کے احسانات کے احساس سے سرشار ہو جائے گا۔ اس کے بعد کیسے ممکن ہے کہ وہ خدا کے بارہ میں خاموش رہے۔
خدا کی معرفت آدمی کے اندر ایک ربانی ہستی پیدا کرتی ہے۔ انسان کے اندر کی یہ ربانی ہستی جب لفظوں کی صورت میں ڈھلنے لگے تو اسی کا نام ذکر ہے۔
ذکر بمعنی یاد وہ سب سے بڑا نذرانہ ہے جو کوئی بندہ اپنے رب کے لیے پیش کر سکتا ہے۔ آدمی جب اپنی عبدیت کو اور اس کے مقابلہ میں خدا کی ربوبیت کو سوچتا ہے تو وہ خدا کی عظمتوں کے احساس کے نیچے دب جاتا ہے۔ خدا کے اُن گنت احسانات کو سوچ کر وہ حیران رہ جاتا ہے ۔ وہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں جو میں اپنے مہربان اور قادر مطلق خدا کو پیش کروں۔ یہ احساسات کچھ روحانی کلمات کی صورت میں اس کی زبان پر جاری ہو جاتے ہیں، انھیں کلمات کا نام ذکر ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues