Al-Risala · July 1994 · page 11

دلیل کی سطح پر

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۱۱

دلیل کی سطح پر

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ : اور ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کا مضمون کھول کھول کر بیان کیا ہے ، پھر بھی اکثر لوگ انکار ہی کیے جا رہے ہیں۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم ہرگز تم پر ایمان نہ لائیں گے جب تک تم ہمارے لیے زمین سے کوئی چشمہ جاری نہ کردو یا تمہارے پاس کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو جائے ۔ پھر تم اس باغ کے بیچ میں خوب نہریں جاری کردو ۔ یا جیسا کہ تم کہتے ہو، ہمارے اوپر آسمان سے ٹکڑے گرادو یا اللہ اور فرشتوں کو لا کر ہمارے سامنے کھڑا کر دو یا تمہارے پاس سونے کا کوئی گھر ہو جائے ۔ یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ اور ہم تمہارے چڑھنے کو بھی نہ مانیں گے جب تک تم وہاں سے ہم پر کوئی کتاب نہ اتار دو جس کو ہم پڑھیں ۔ کہو کہ میرا رب پاک ہے، میں تو صرف ایک بشر ہوں، اللہ کا رسول ۔ اور جب ان کے پاس ہدایت آگئی تو ان کو ایمان لانے سے اس کے سوا کوئی اور چیز مانع نہیں ہوئی کہ انھوں نے کہا کیا اللہ نے بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔ کہو کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے کہ وہ اس میں چلتے پھرتے تو البتہ ہم ان پر آسمان سے فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتے ۔ کہو کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لیے کافی ہے ، بے شک وہ اپنے بندوں کو جاننے والا، دیکھنے والا ہے ۔ اللہ جس کو راہ دکھائے وہی راہ پانے والا ہے۔ اور جس کو وہ بے راہ کردے تو تم ان کے لیے اللہ کے سوا کسی کو مددگار نہ پاؤگے۔ اور ہم قیامت کے دن ان کو ان کے منہ کے بل اندھے اور گونگے اور بہرے اکٹھا کریں گے ۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے بنی اسرائیل ۔ (۸۹ - ۹۷) ہر زمانہ میں یہ واقعہ پیش آیا ہے کہ لوگوں نے حق کے داعی کی بات کو ماننے سے انکار کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی حق کا داعی اٹھتا ہے تو بظاہر وہ صرف ایک "بشر" ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ تاریخی عظمتیں جمع نہیں ہوتیں ۔ اس لیے لوگ اس کو ایک عام آدمی سمجھ کر اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ حق ہمیشہ دلیل کی سطح پر ظاہر ہوتا ہے نہ کہ ظاہری عظمتوں کی سطح پر ۔ جو لوگ حق کو دلیل کی سطح پر نہ پائیں وہ اللہ کی نظر میں اندھے اور بہرے ہیں۔ آخرت میں ان کی اندرونی حقیقت ظاہر ہو جائے گی ۔ وہاں وہ اس حال میں اٹھیں گے کہ وہ آنکھ رکھتے ہوئے اندھے ہوں گے اور کان رکھتے ہوئے بہرے ۔

"

‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues

Printed page