تعمیر حیات
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۲۴
تعمیر حیات
کسی کا قول ہے : ہر مسئلہ حل ہو سکتا ہے، سوا اس مسئلہ کے جس کو ناقابلِ حل سمجھ لیا جائے ۔ یہ بہت بامعنی قول ہے۔ اس کا تعلق انسان کے ہر معاملہ سے ہے ، خواہ وہ چھوٹا معاملہ ہو یا کوئی بڑا معاملہ۔ خواہ وہ ایک شخص کا معاملہ ہو یا پوری قوم اور پورے ملک کا معاملہ ۔ انسان کے سامنے جب کوئی مسئلہ آتا ہے تو عام طور پر اس کو مسئلہ کا ایک ہی پہلو دکھائی دیتا ہے۔ اور وہ اس مسئلہ کا مشکل ہونا ہے ، مسئلہ کا آسان پہلو اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ حالانکہ اس دنیا میں کوئی مسئلہ ایسا نہیں جو صرف مشکل ہی مشکل ہو۔ اس میں آسانی کا پہلو موجود نہ ہو مسئلہ پیش آنے کے بعد آدمی اگر گہرائی کے ساتھ سوچے تو اس کو نظر آئے گا کہ جہاں مشکل تھی وہیں آسانی کی صورتیں بھی اس کے لیے موجود تھیں۔ جہاں نا موافق پہلو تھے، وہیں کچھ موافق پہلو بھی تھے جو اس انتظار میں تھے کہ کوئی آئے اور ان کو استعمال کرے۔
ایک صاحب نے ایک شخص کی شرکت میں ایک کاروبار کیا۔ کاروبار میں اچھا نفع ہوا۔ اس کے بعد شریک کی نیت بگڑ گئی۔ اس نے کچھ غلط تدبیر کر کے پورے کاروبار پر قبضہ کر لیا۔ اور دوسرے صاحب کو اس سے الگ کر دیا۔ پہلے دونوں کی حیثیت برابر کے شریک کی تھی۔ اب یہ صورت بن گئی کہ ایک شخص تنہا پورے کاروبار کا مالک ہے، اور دوسرے کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔ ان صاحب سے میری ملاقات ہوئی۔ وہ بہت غصہ میں تھے اور اتنا مایوس تھے کہ خود کشی کر لینا چاہتے تھے ، میں نے کہا کہ آپ کے پاس دو چیزیں تھیں۔ ایک کاروبار ، اور دوسرے آپ کا اپنا وجود۔ کاروبار اگر آپ سے کھویا گیا تو اس کے لیے اتنا غم کرنے کی کیا ضرورت۔ آپ کا اپنا وجود تو پھر بھی بدستور آپ کے پاس باقی ہے۔ آپ اپنے اس باقی سرمایہ کو استعمال کیجیے ، آپ پہلی چیز سے اپنی نظریں ہٹالیجیے اور اپنی ساری توجہ دوسری چیز پر لگا لیجئے۔ اللہ کی مدد سے یقیناً آپ کامیاب رہیں گے۔ یہ بات ان کی سمجھ میں آگئی۔ انھوں نے پچھلے کاروبار کو بھلا دیا اور از سر نو ایک نیا کاروبار شروع کر دیا۔ انھوں نے اپنی عقل اور محنت کو استعمال کیا۔ یہاں تک کہ ان کا کاروبار چل گیا۔ چند سال کے بعد وہ اس شخص سے بھی آگے بڑھ گئے جس نے دھوکا دے کر پچھلے کاروبار پر قبضہ کر لیا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues