Al-Risala · July 1994 · page 25

تعمیر حیات

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۲۵

وہ آدمی جہاں تھا وہیں رہ گیا۔ اور انھوں نے اپنی محنت ترقی کا برتر مقام حاصل کر لیا۔ یہی اس دنیا میں زندگی اور ترقی کا راز ہے۔ اس دنیا میں آدمی کو اس احساس کے ساتھ زندگی گزارنا ہے کہ یہاں اگر دشواریاں ہیں تو یہاں مواقع بھی ہیں۔ یہاں اگر نقصان ہے تو یہاں فائدے کی صورتیں بھی موجود ہیں۔ یہاں اگر دشمن ہیں تو یہاں دوست بھی ہیں۔ یہاں اگر تاریک پہلو ہیں تو اسی کے ساتھ یہاں روشن پہلو بھی ہیں۔ یہاں اگر کھونے کی مثالیں ہیں تو یہاں پانے کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ یہاں اگر انسان کے لیے "نہیں" ہے تو یہاں اس کے لیے "ہاں" بھی پوری طرح موجود ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ کبھی مایوس نہ ہو۔ وہ کسی بھی صورت میں اپنا حوصلہ نہ کھوئے۔ وہ ماضی کو بھلا کر ہمیشہ مستقبل کی طرف دیکھے۔ ہر بار گرنے کے بعد وہ دوبارہ اٹھنے کی کوشش کرے۔ وہ کسی ہونے والی بات کو کبھی آخری ہونے والی بات نہ قرار دے۔

حوصلہ مندی اس دنیا میں کسی آدمی کا سرمایہ ہے۔ یہ ایسا سرمایہ ہے جو کبھی کھویا جانے والا نہیں۔ حوصلہ مندی بلا شبہ سب سے زیادہ قیمتی دولت ہے، اور حوصلہ مندی وہ دولت ہے جس کو کوئی چھیننے والا چھیننے پر قادر نہیں۔

کسی کا قول ہے : سب کچھ کے پیچھے دوڑنے والا کچھ نہیں پاتا، اور جو آدمی کچھ کے پیچھے دوڑے وہ آخر کار سب کچھ کو پا لیتا ہے۔ یہ زندگی کا اہم ترین راز ہے۔ زندگی انھیں لوگوں کے لیے ہے جو اس راز کو سمجھیں اور اس کو عملی طور پر استعمال کریں۔

آپ پھل دار درختوں کا ایک باغ لگانا چاہتے ہیں۔ اگر آپ ایسا کریں کہ کہیں سے بڑے سے بڑے درخت لائیں اور ان کو اپنی زمین پر گاڑ دیں تو اس طرح آپ باغ والے نہیں بن سکتے۔ آج آپ جو درخت لگائیں گے وہ کل سوکھ چکے ہوں گے۔ کل آپ دوسرے درخت لا کر لگائیں گے تو دوبارہ وہ پرسوں تک سوکھ چکے ہوں گے۔ آپ پچاس سال تک بھی ایسا کرتے رہیں تو کبھی آپ ہرے بھرے پیڑوں کے باغ کے مالک نہیں بن سکتے۔

باغ کا مالک بننے کی صورت صرف یہ ہے کہ آپ اپنے مطلوبہ درخت کے بیج حاصل کریں اور ان کو زمین میں گاڑ دیں۔ اس کے بعد ان کو کھاد اور پانی دیتے رہیں۔ جب آپ ایسا کریں گے تو ضروری مدت گزرنے کے بعد آپ کی زمین پر ہرے بھرے درختوں کا باغ لہلہارہا ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues

Printed page