Al-Risala · July 1994 · page 2

سفر نامہ - ۲

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۲

سفر نامہ - ۲

بلجیم کا نام سب سے پہلے میں نے تقریبا پچاس سال قبل پوسٹ اسٹمپ کے ذریعہ جانا۔ اس وقت میں عربی مدرسہ میں طالب علم تھا۔ مجھے ٹکٹ کا شوق ہو گیا۔ میں نے بہت سے ملکوں کے ٹکٹ اپنے البم میں جمع کر لئے۔ انھیں میں سے ایک ، بلجیم کا ٹکٹ بھی تھا۔ جس پر غالباً شاہ لیوپولڈ سوم (Leopold III) کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ ابتدائی عمر میں اکثر ملکوں کے نام میں نے ٹکٹ ہی کے ذریعہ جانے ہیں۔

پختہ عمر کو پہنچنے کے بعد میرا ٹکٹ جمع کرنے کا شوق ختم ہو گیا۔ مگر میں نے ایک صاحب کو دیکھا ہے کہ ۹۰ سال کی عمر میں بھی بچوں کی طرح ٹکٹ کے شائق تھے۔ اس مثال سے دو قسم کے انسانوں کا فرق معلوم ہوتا ہے۔ ایک انسان وہ ہے جس کا حال یہ ہے کہ ابتداً وہ جیسا بن گیا ، آخر تک وہ اسی طریقہ پر قائم رہتا ہے۔ دوسرا انسان وہ ہے جو ہمیشہ سوچتا رہے۔ جو علم اور عمر کے اضافے کے بعد سفر حیات کے مزید مراحل طے کرے۔

بلجیم کی تاریخ چھٹی صدی قبل مسیح تک جاتی ہے۔ ۸۳۰ اء میں یہاں آزاد بادشاہت قائم ہوئی دونوں عالمی جنگوں کے درمیان جرمنی نے بلجیم پر قبضہ کر لیا تھا۔ مگر دونوں بار جنگ کے بعد اس نے جرمنی کے قبضہ سے رہائی حاصل کر لی۔ انڈیا کے مقابلہ میں بلجیم بہت چھوٹا ہے مگر ترقیات کے اعتبار سے وہ انڈیا سے بہت زیادہ آگے ہے۔

ہندستان میں جب میں لوگوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر آدمی کے چہرہ پر لکھا ہوا ہے " میں قانون کو توڑنے والا ہوں" اس کے برعکس یہاں کے لوگوں پر جب میری نظر پڑتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر ایک کے چہرہ پر لکھا ہوا ہو : " میں قانون کا پالن کرنے والا ہوں" یہاں کے لوگ (جن میں کئی یورپی ملک کے لوگ شامل ہیں) اس طرح چلتے پھرتے اور اپنا کام کرتے ہیں جیسے کسی ریموٹ کنٹرول کے ذریعہ وہ قانون ان سب کو اپنی گرفت میں لئے ہوئے ہو۔ یہاں اگرچہ مکمل آزادی ہے ، مگر اسی کے ساتھ یہاں اجتماعی آداب و قوانین کا مکمل احترام پایا جاتا ہے۔ ہندستان کی آبادیوں میں چلے تو قانون شکنی کی تصویریں نظر آئیں گی۔ اس کے مقابلہ میں یہاں کی آبادیاں ہر طرف قانون کی پابندی کی تصویر بنی ہوئی نظر آتی ہیں۔

بروسیلز کانفرنس میں ۸۰ ملکوں کے لوگ شریک ہوئے۔ ۱۵ ستمبر کو صبح سے دوپہر تک

‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues

Printed page