تعمیر حیات
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۲۶
یہی معاملہ زندگی کے تمام معاملات کا ہے۔ آپ کو علم میں آگے بڑھنا ہو، یا آپ کو کاروبار کرنا ہو۔ یا آپ کو ایک کار خانہ چلانا ہو، ہر کام میں ترقی حاصل کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ شروع سے آغاز کیا جائے کم سے چل کر زیادہ تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔ پہلے صرف جز پر قناعت کی جائے، اس کے بعد کل کی امید کی جائے۔ موجودہ دنیا میں ترقی اور کامیابی کا یہی واحد طریقہ ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسرا طریقہ نہیں جو کسی کو ترقی اور کامیابی کے درجہ تک پہنچانے والا ہو۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب ایک آدمی کو کسی دوسرے شخص سے سابقہ پیش آتا ہے تو وہ جو کچھ دینے پر راضی ہوتا ہے وہ پہلے شخص کو کم نظر آتا ہے۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ وہ دوسرے آدمی سے زیادہ سے زیادہ حاصل کر لے۔ مگر یہ دانش مندی نہیں۔ اس قسم کی کوشش کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ دونوں آدمیوں کے درمیان جھگڑا کھڑا ہو جائے گا اور جو کچھ مل رہا تھا اس کا ملنا بھی مشتبہ ہو جائے گا۔ آدمی کو چاہیے کہ ایسی نادانی نہ کرے ۔ دوسرا شخص جو کچھ دینے پر راضی ہے اس کو لے کر اپنی زندگی کی جد و جہد شروع کر دے۔ وہ ملی ہوئی چیز کو زینہ بنا کر نہ ملی ہوئی چیز کو حاصل کرنے کی محنت میں لگ جائے۔ اگر وہ ایسا کرے تو چند سال کے بعد وہ دیکھے گا کہ دوسرا شخص اس کو جو کچھ دینے پر راضی نہیں ہو رہا تھا ۔ وہ مزید اضافہ کے ساتھ اس نے خود اپنی محنت کے ذریعہ حاصل کر لیا ہے۔
آدمی جب کسی نہ ملی ہوئی چیز کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ بھول جاتا ہے کہ اس کوشش میں وہ اپنی ملی ہوئی ایک چیز کو ضائع کر رہا ہے۔ یہ ضائع ہونے والی چیز اس کا وہ وقت ہے جو اب بھی اس کو حاصل ہے۔ نہ ملی ہوئی چیز کی خاطر ملی ہوئی چیز کو کھونا عقل مندی نہیں ہو سکتی۔ غیر حاصل شدہ چیز کے پیچھے حاصل شدہ چیز سے محروم ہو جانا کسی سمجھ والے آدمی کا کام نہیں۔ وقت آدمی کی سب سے زیادہ قیمتی متاع ہے۔ دانش مند وہ ہے جو اپنے وقت کی قدر کرے، جو وقت کے کھونے کو کسی بھی حال میں برداشت نہ کرے ۔
نوٹ: یہ تقریر آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ۱۰ دسمبر ۱۹۹۲ کو نشر کی گئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues