Al-Risala · July 1994 · page 31

Religions and Solidarity among peoples.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۳۱

اگلے مقام پر ہر مذہب والوں کے لئے الگ الگ عبادت گاہ کا انتظام کیا گیا تھا۔ اہل اسلام کے لئے ایک بڑے ہال کو خالی کرکے مسجد کی مانند بنایا گیا تھا۔ ہم لوگ تقریباً ۲۰ آدمی وہاں جمع ہوئے۔ کچھ دیر دینی موضوعات پر گفت گو ہوئی۔ پھر ایک عرب شیخ کی امامت میں ظہر اور عصر کی نماز جمع تقدیم کے ساتھ ادا کی گئی۔ امام مصلے پر کھڑے ہوئے تو انھوں نے مقتدیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: صلاة الظهر والعصر جمعا وقصراً۔ اذان سے لے کر نماز تک کا پورا عمل ٹیلی ویژن کے لوگ ریکارڈ کرتے رہے۔ ہال کے کنارے بڑی تعداد میں کھڑے ہوئے لوگ ہماری نماز کو دیکھ رہے تھے نماز کے بعد پورا قافلہ ایک میدان میں جمع ہوا جو خاص طور پر اسی کے لئے بنایا گیا تھا۔ یہاں شرکاء کانفرنس کے علاوہ مقامی لوگ لاکھوں کی تعداد میں جمع ہوئے۔ وسیع میدان پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ یہاں امن (Peace) کے موضوع پر تقریریں اور دعائیں ہوئیں۔ کچھ اور رسوم ادا کرنے کے بعد یہاں سے روانہ ہو کر دوبارہ ہوٹل میں آگئے۔

جاپان کے بدھوں کی ایک ٹیم کانفرنس میں شریک ہوئی۔ ان کے علاوہ دو آدمی اور جاپان سے آئے تھے۔ ان میں سے ایک صاحب انگریزی بول سکتے تھے۔ ان کا نام و پتہ یہ ہے: Yasuni Hirose, President, Jinrui Aizenkai Ten' Onkyo, Kameoka, Kyoto, Japan انھوں نے بتایا کہ وہ شنٹومذہب کے ماننے والے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم کو اسلام سے خاص دلچسپی ہے۔ کیوں کہ ہم لوگ موحد ہیں۔ ہم نے کبھی جاپان کے بادشاہ کو کامی (خدا) نہیں مانا۔ اس کی وجہ سے پہلے ہم مسلسل تعذیب (Persecution) کا شکار رہتے تھے۔ مگر دوسری عالمی جنگ کے بعد خود جاپان میں یہ عقیدہ ختم ہوگیا کہ ہمارا بادشاہ کامی (خدا) ہے ۔ اس لئے اب ہم کو آزادانہ کام کرنے کے مواقع حاصل ہوگئے ہیں۔

اسی طرح البانیہ کے مفتی الحافظ صبری کوتشی (۷۰ سال) نے بتایا کہ قدیم کمیونسٹ حکومت وہاں کے مسلمانوں پر بے حد ظلم کرتی تھی۔ خود مفتی صاحب ۲۱ سال تک شدید مشقت کے ساتھ جیل میں رہے ہیں۔ کمیونسٹ حکومت نے مدرسے بند کر دئے ۔ مسجدیں ڈھادیں۔ مگر بالآخر

‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues

Printed page