Religions and Solidarity among peoples.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۳۲
1991 میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد البانیہ کی کمیونسٹ حکومت بھی ختم ہوگئی۔ اب وہاں کامل مذہبی آزا دی ہے۔
میں نے سوچا کہ قدیم زمانہ میں فتنہ (مذہبی جبر) کو ختم کرنے کے لئے جنگ کرنی پڑی تھی۔ اب اللہ تعالیٰ نے خود عالمی حالات میں ایسے اسباب پیدا کر دئے ہیں جو فتنہ بردار حکومتوں کا خاتمہ کر رہے ہیں۔ یہ زمانی فرق کا ایک معاملہ ہے جس کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ جو لوگ اس زمانی فرق کو نہ سمجھیں وہ موجودہ زمانہ میں دعوت توحید کی صحیح منصوبہ بندی نہیں کر سکتے۔ ایک تعلیم یافتہ عرب سے عالم اسلام کے قائدین کے بارہ میں گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ ایک بے مفکر قائد ، دوسرا ہے عوامی قائد۔ مفکر قائد وہ ہے جو خود اپنے تخلیقی افکار کی بنیاد پر لوگوں کے اندر ایک نئی سوچ پیدا کرے۔ اور عوامی قائد وہ ہے جو لوگوں کی خواہشات کی ترجمانی کر کے اپنے گردان کی بھیڑ اکٹھا کرلے۔
میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مشہور قائدین میں سے کوئی ایک شخص بھی نہیں جس کو فی الواقع مفکر قائد کہا جاسکتا ہو۔ موجودہ زمانہ کی مسلم شخصیتوں میں سے کسی بھی شخص کے یہاں تخلیقی فکر کا وجود نہیں۔ موجودہ زمانہ کے تمام مسلم قائدین عوامی قائد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے کسی ایک یا دوسری شکل میں عوامی خواہشات کی ترجمانی کر کے ان کے درمیان قیادت کا مقام حاصل کر لیا۔ مگر کسی قوم کی تعمیر صرف تخلیقی مفکرین کے ذریعہ ہوتی ہے۔ عوامی خواہشات کو استعمال کرنے والا قائد ، خواہ وہ کتنا ہی مخلص ہو ، وہ اپنی قوم کو صرف ہلاکت کے گڑھے میں پہنچاتا ہے۔ وہ کبھی اس کو فلاح کی منزل تک نہیں لے جاسکتا۔
ہمارا ابتدائی ٹکٹ صرف بروسیلز جانے اور وہاں سے واپس آنے کے لئے تھا۔ مگر لندن اور قاہرہ میں مقیم کچھ عرب نوجوانوں کے مسلسل ٹیلیفون آئے کہ واپسی میں لندن اور قاہرہ میں بھی قیام کیا جائے ۔ چنانچہ ہم نے اپنا ٹکٹ ری روٹ کرایا۔ اس کے مطابق واپسی ہوئی ۔ 16 ستمبر کو فجر کی نماز بروسیلز کی آخری نماز تھی۔ ناشتہ سے فراغت کے بعد ڈاکٹر لیونارڈو کے ہمراہ ایئر پورٹ کے لئے روانگی ہوئی۔ ضروری کارروائی کے بعد اندر داخل ہوئے تو ایئر پورٹ کے چرچ کے نادر مل گئے۔ انھوں نے ہم کو پہچان لیا ، کیوں کہ انھوں نے کانفرنس میں ہمیں دیکھا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues