Al-Risala · July 1994 · page 36

Let us agree to disagree

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۳۶

إن في ذالک لآيات للمتوسمين)، اور بخاری کی حدیث ما خیر بین امرین الا اختار ایسرھما، کی تشریح کی اور مختلف واقعات کے ذریعہ اس کو واضح کیا۔ لآیات للمتوسمين کے سلسلہ میں کہا کہ عربی میں کہا جاتا ہے کہ تو سمتُ فيه الخير ۔ یعنی میں نے اس کے اندر کچھ علامتیں دیکھیں جن سے میں نے استنباط کیا کہ اس کے اندر خیر ہے۔ متوسم وہ ہے جو ظاہری چیزوں سے باطنی حقیقتوں کو دریافت کرے اور ان کو اپنے لئے نصیحت بنائے ۔

۷ ستمبر کو بھی عرب نوجوانوں کے ساتھ ملاقات کا سلسلہ جاری رہا۔ طارق حسین الکردی نے آئرلینڈ کی شہریت لی ہے مگر آجکل وہ انگلینڈ میں رہ رہے ہیں۔ آئرلینڈ میں زیادہ تر پروٹسٹنٹ ہیں اور انگلینڈ میں زیادہ تر کیتھولک ۔ دونوں میں سخت نفرت ہے۔ برنارڈ شا ایک آئرش مصنف تھا۔ وہ انگریزوں کی زبان اور کلچر کا مذاق اڑایا کرتا تھا۔ مثلاً انگریزی زبان کے تلفظ کے نقائص بتاتے ہوئے ایک بار اس نے کہا کہ اگر میں انگریزی کے لفظ (Fish) کو گھوٹی پڑھتوں تو کوئی انگریز اس پر اعتراض کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

میں نے طارق حسین الکردی سے پوچھا کہ آپ کی جنسیت آئرش ہے، پھر آپ انگلینڈ میں کس طرح رہتے ہیں اور یہاں کے قانون کے مطابق آپ کو یہاں کی تمام سہولتیں بھی حاصل ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ دونوں کے درمیان نفرت پائی جاتی ہے۔ مگر دونوں ملکوں کے درمیان اتفاقیہ (ایگریمنٹ) ہے کہ ایک جگہ کے شہری کو دوسری جگہ وہی سہولتیں حاصل رہیں جو اس کو اپنے ملک میں حاصل ہیں ۔

انگلینڈ اور آئرلینڈ میں جو اختلافات ہیں وہ تقریبا اُسی قسم کے ہیں جو ہندوستان اور پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔ مثلاً آئرلینڈ والوں کو شکایت ہے کہ انگلینڈ والے عظیم تر انگلینڈ بنانا چاہتے ہیں اور اس میں آئرلینڈ کو ضم کر لینے کا منصوبہ بنائے ہوئے ہیں ۔ وغیرہ ۔ مگر اس قسم کے اختلافات کے باوجود یہاں دونوں ملکوں میں جو مفاہمت ہے وہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان نا قابل تصور ہے۔ مغربی دنیا کا مزاج اس انگریزی مثل سے معلوم ہوتا ہے کہ آؤ ، ہم اس پر اتفاق کر لیں کہ ہمارے درمیان اختلاف ہے :

Let us agree to disagree

‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues

Printed page