Let us agree to disagree
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۳۸
ہو رہے ہیں اور فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ میں یو کے میں سیٹل ہو گیا ہوں۔
۷ستمبر کی شام کو بولٹن کی زکریا مسجد دیکھی۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ برطانیہ میں بنائی جانے والی دوسری مسجد ہے۔ باہر سے دیکھنے میں یہ مسجد یہاں کے معروف مکان کی مانند نظر آتی ہے۔ نماز کا حصہ بڑے ہال کی مانند ہے۔ اس کے اندر بچوں کا مدرسہ قائم ہے۔ میں جس وقت مسجد میں داخل ہوا تو وہاں بچوں کے قرآن پڑھنے کی آواز اسی طرح سنائی دے رہی تھی جس طرح ہندوستان کی ان مسجدوں میں سنائی دیتی ہیں جہاں مسجد کے ساتھ مدرسہ بھی قائم ہے۔ مسجد صاف ستھری تھی۔ تین آدمی ایک کنارے بیٹھے ہوئے قرآن کی تلاوت کر رہے تھے۔ مسجد کے اندر سکون کا ماحول نظر آیا۔ مسجد کے بیرونی حصہ میں ایک بورڈ پر لکھا ہوا تھا:
To all Muslim brothers, please give your Lillah donations. مسجد دیکھنے کے بعد میں اپنے تین عرب ساتھیوں کے ہمراہ شہر کے باہر گیا۔ یہاں پہاڑیاں تھیں، اور قدرتی مناظر کا ماحول تھا۔ یہاں کی خالص ہوا میں ہم لوگوں نے کچھ وقت گزارا ۔ اور اس کے بعد گھر واپس آگئے۔
پہاڑی کے دامن میں ایک مقام پر گھوڑے کا فارم تھا۔ ایک جگہ میں نے دیکھا کہ ایک انگریز بچہ ایک گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہو کر اس کو گولائی میں دوڑا رہا ہے۔ بچہ کی عمر غالباً دس سال ہوگی، اور گھوڑا نہایت قومی ہیکل تھا۔ مگر وہ مکمل طور پر بچہ کے قابو میں تھا۔ بچہ جس طرف چاہتا اس کو لے جاتا اور جہاں چاہتا اس کو کدا تا۔ میں نے اپنے عرب ساتھیوں سے کہا کہ یہی تسخیر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے گھوڑے کی فطرت اس طرح بنائی ہے کہ وہ انسان کی تابعداری کو قبول کرلے۔ اگر گھوڑے میں یہ پیدائشی صفت نہ ہوتی تو ناممکن تھا کہ انسان کا ایک بچہ اس طرح اس کو قابو میں کرکے اس کو اپنی سواری بنا سکے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو انسان کے لئے مسخر کر دیا ہے۔ یہ تسخیر کہیں براہ راست ہے اور کہیں بالواسطہ۔ یعنی کچھ چیزیں ایسی ہیئت پر بنائی گئی ہیں کہ وہ ہمیشہ انسان کے موافق ہیں۔ مثلاً زمین کی کشش یا سورج کی گرمی۔ اور کچھ چیزوں میں یہ صلاحیت رکھ دی گئی ہے کہ انسان اپنے تصرف سے ان کو اپنے موافق بنا سکے۔ مثلاً گھوڑا یا
‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues