Al-Risala · July 1994 · page 39

Let us agree to disagree

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۳۹

مویشی۔ اگر تسخیر کا یہ عمل پیشگی طور پر نہ کر دیا گیا ہوتا تو انسان کے لئے زمین پر زندہ رہنا یا تمدن کی تعمیر کرنا ممکن نہ ہوتا۔

ڈگن کے قیام کے دوران میری ملاقاتیں صرف عرب نوجوانوں سے یا کچھ انگریزوں سے ہوئیں۔ یہ عرب نوجوان یہاں غیر مسلموں میں دعوتی کام انجام دے رہے ہیں۔ وہ خاص اسی مقصد کے لئے یہاں آکر مقیم ہوئے ہیں۔ وہ الرسالہ انگریزی لوگوں کو پڑھنے کے لئے دیتے ہیں۔ اور ہمارے یہاں کی انگریزی مطبوعات منگوا کر اس کو پھیلا رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ الرسالہ کے دعوتی مضامین چھوٹے چھوٹے پمفلٹ کی صورت میں چھپوا کر مفت تقسیم کرتے ہیں۔ یہ ایک خاموش دعوتی عمل ہے جس میں وہ لوگ رات دن مصروف رہتے ہیں۔

ان عرب نوجوانوں نے انگریزی زبان بخوبی سیکھ لی ہے۔ اب ان کا خیال ہے کہ ان میں سے ہر شخص کسی اور یورپی زبان کو کم از کم بقدر ضرورت سیکھے تاکہ وسیع تر دعوتی روابط قائم کرنے میں سہولت ہو۔ باہمی مشورہ سے طے ہوا کہ آپ لوگ کم از کم فی الحال اپنا کوئی الگ ادارہ قائم کرنے کی کوشش نہ کریں۔ بلکہ جو مسلم ادارے برطانیہ میں قائم ہو چکے ہیں یا پہلے سے کام کر رہے ہیں، ان سے جڑ کر اپنا مثبت کام جاری رکھیں۔

ایک مجلس میں کچھ لوگوں نے کہا کہ آپ اکابر پر تنقید کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے لوگ بھڑکتے ہیں۔ آپ کو تنقید چھوڑ دینا چاہئے تاکہ لوگ آپ کے قریب آسکیں۔

میں نے کہا کہ تنقید پر بگڑنا، ایک قسم کا ذہنی نقص ہے جس کو علماء نفسیات دو قسمی طرز فکر (dichotomous thinking) کہتے ہیں۔ ایسا آدمی چیزوں کو صرف دو قسم میں رکھ کر سوچ پاتا ہے۔ وہ کسی تیسری قسم کو نہیں جانتا۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ جب اس کے اکابر پر تنقید کی جائے تو وہ بگڑ جاتا ہے۔ کیوں کہ وہ سمجھتا ہے کہ تنقید اس کے اکابر کو ڈسکر یڈٹ کر رہی ہے۔ وہ یا تو بے تنقید حالت کو جانتا ہے یا با تنقید حالت کو۔ وہ سمجھتا ہے کہ جس آدمی پر تنقید کی جارہی ہے وہ غلط انسان ہے اور جس آدمی پر تنقید نہ کی جائے وہ صحیح انسان۔

حالاں کہ یہاں ایک تیسری حالت بھی ہے جس کو حدیث میں اجتہادی خطا کی حالت بتایا گیا ہے۔ یعنی آدمی بذات خود صحیح اور قابل قدر ہو مگر کسی معاملہ میں اس سے اجتہادی غلطی ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues

Printed page