تاریخ پر اثرات
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۳۶
مسیحیت کا عقیدہ نابرابری یا سماجی بے انصافی کی تعلیم نہیں دیتا۔ مگر مسیحیت کی کمی یہ ہے کہ اس کے یہاں اس عقیدہ کی پشت پر مساوات کا کوئی طاقت ور تاریخی نمونہ موجود نہیں۔ حضرت مسیح کا مشن دعوت کے مرحلہ ہی میں ختم ہو گیا۔ وہ عملی انقلاب کے مرحلہ تک نہیں پہنچا۔ اس لیے مسیحیت کے دورِ اول میں مساوات کا طاقت ور عملی نمونہ بھی قائم نہ ہو سکا۔ ایسی حالت میں صرف عقیدہ عملی تبدیلی لانے کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔
اسلام کا معاملہ مذکورہ دونوں نظاموں کے برعکس یہ ہے کہ اس کے یہاں مساوات اور برابری کے سلوک کے حق میں ایک مکمل آئیڈیالوجی موجود ہے۔ اسی کے ساتھ اسلام میں ایک انتہائی کامل اور معیاری عملی نمونہ موجود ہے۔ اسلام کے دورِ اول کی تاریخ میں ان دونوں چیزوں کی موجودگی نے ہمیشہ کے لیے اسلام کی تاریخ کا رخ متعین کر دیا ہے۔ اب اسلامی تاریخ کو اسی رخ پر سفر کرنا ہے ۔ کوئی اور رخ اتنا طاقت ور نہیں ہو سکتا کہ وہ اسلام کی تاریخ کے سفر کو اس کی طرف موڑ دے۔
اسلام کی یہ خصوصیت تمام انسانوں کے لیے رحمت ہے۔ وہ ساری قوموں کے لیے امید کی روشنی ہے۔ اس معاملہ میں اگر تعصب کو دخل نہ دیا جائے اور اسی طرح کھلے ذہن کا ثبوت دیا جائے جو مذہب کے علاوہ تمام سیکولر باتوں کے لیے ہمیشہ اختیار کیا جاتا ہے تو اچانک لوگوں کو معلوم ہو کہ اسلام کی صورت میں یہاں خدا و ند عالم کی ایک عظیم رحمت خدا کے تمام بندوں کے لیے موجود ہے۔ اسلام کسی گروہ کی قومی روایت نہیں۔ حتیٰ کہ وہ دوسرے مذاہب سے الگ کوئی انوکھا مذہب بھی نہیں۔ وہ پچھلے مذاہب ہی کا محفوظ اور مستند ایڈیشن ہے۔ وہ ہر ایک کی فطرت کی آواز ہے۔ اس نظر سے دیکھا جائے تو اسلام ہر آدمی کو خود اپنا اثاثہ معلوم ہو گا۔ اسلام کو پانا اس کے لیے ایسا ہی ہوگا جیسے کوئی شخص خود اپنی ایک کھوئی چیز کو از سر نو پا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues