طلاق اسلام میں
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۴، صفحہ ۳۷
طلاق اسلام میں
یہ فطرت کا تقاضا ہے کہ ایک مرد اور ایک عورت باہم رشتہ ازدواج میں منسلک ہو کر ایک ساتھ زندگی گزاریں۔ اسلامی شریعت میں اس کے لیے نکاح کا طریقہ مقرر کیا گیا ہے۔ اسلام کے مطابق ، نکاح ایک معاشرتی عہد (civil contract) ہے جو ایک عورت اور ایک مرد کی باہمی رضامندی (mutual consent) سے وقوع میں آتا ہے۔
نکاح کا یہ عمل ایک اعتبار سے خاندانی زندگی کی تعمیر ہے۔ اور دوسرے اعتبار سے وہ پورے انسانی سماج کی تربیت ہے۔ عورت اور مرد اگر اپنی شادی شوہ زندگی میں اچھی بیوی اور اچھے شوہر ثابت ہوں تو یقینی طور پر وہ وسیع تر سماج کے لیے بھی اچھے شہری ثابت ہوں گے۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہے (خیرکم خیرکم لاھلہ) سنن ابن ماجہ ، کتاب النکاح شادی شدہ زندگی کی یہی خاص اہمیت ہے جس کی بنا پر اسلام میں اس رشتہ کو نہایت مقدس قرار دیا گیا ہے، اور اس کی پائیداری اور خوش گواری کے لیے تفصیلی احکام مقرر کیے گئے ہیں۔ تاہم زیادہ قانونی بندش بغاوت کا ذہن پیدا کرتی ہے۔ اس لیے اسلام میں فطری حد تک ضروری قانونی بندش مقرر کرنے کے بعد یہ کوشش کی گئی ہے کہ انسانی ارادہ کی اس طرح تربیت کی جائے کہ وہ خود اپنے فیصلہ سے اپنے آپ کو صحیح مطلوبہ حد کے اندر قائم رکھے۔ خاندان دراصل تربیت انسانی کا ابتدائی یونٹ ہے۔ خاندان کے ادارہ کا ٹوٹنا تربیت انسانی کے ادارہ کا ٹوٹنا ہے۔ اگر خاندان کا ادارہ بار بار ٹوٹنے لگے تو اس کا یہ عظیم نقصان ہوگا کہ تربیت افراد کا دہ کام ہونے سے رہ جائے گا جس کے اوپر انسانیت کی تعمیر کا انحصار ہے۔
اسلامی شریعت میں اس سلسلہ میں طلاق کے لیے جو قوانین بنائے گئے ہیں وہ بنیادی طور پر طلاق کو روکنے کے لیے ہیں نہ کہ طلاق کو وقوع میں لانے کے لیے۔ شریعت کی ساری کوشش یہ ہے کہ طلاق کے عمل کو روکا جائے۔ عورت اور مرد جب ایک بار رشتۂ
‹ Previous page Next page › Contents of January 1994 All issues