Al-Risala · July 1994 · page 32

Let us agree to disagree

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۳۲

من تشاء وتنزع الملك ممن تشاء وتعز من تشاء وتذل من تشاء بيدک الخیر إِنَّکَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِیر (آل عمران ۲۶ ) آپ کو اس کے جواب میں کہنا چاہئے تھا کہ امریکی پریذیڈنٹ نے یہ ایسی بات کہی ہے، جو اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ قرآن کی صراحت کے مطابق کسی کو حکمراں بنانا یا کسی کو حکمرانی سے ہٹانا یہ مکمل طور پر اللہ رب العالمین کے اختیار میں ہے۔ پھر ایسی بے معنی بات پر تشویش کی کیا ضرورت۔

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں قرآن پڑھنے والوں کا طرز فکر بھی قرآنی طرز فکر نہیں۔ لوگ ٹوپی اور داڑھی کے معاملہ میں سنت رسول کا اہتمام کرتے ہیں۔ مگر انہیں اس سنت رسول کی خبر نہیں کہ عرب کی ایک مشرک عورت نے آپ کو مذمّم کہا تو آپ نے اس کو لغو سمجھتے ہوئے نظر انداز کر دیا اور فرمایا کہ اس عورت کو دیکھو، یہ مجھ کو مذمم کہہ رہی ہے حالاں کہ اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ مجھ کو تاریخ میں محمد کا مقام عطا کرے۔ اسی بے خبری کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان ہر فضول گو سے لڑنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں حالاں کہ یہ بھی پیغمبر اسلام کی ایک سنت ہے کہ فضول گو لوگوں کو نظر انداز کر کے اپنا مثبت کام جاری رکھا جائے۔

وگن کی ایک چھوٹی لائبریری میں مشہور انگریز سائنس داں سر جیمز جنینز کی کتاب طبیعیات اور فلسفہ (Physics and Philosophy) دیکھی۔ اس کے دیباچہ (Preface) کے نیچے مصنف کے دستخط کے ساتھ ۸ جولائی ۱۹۴۴ کی تاریخ درج ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب ۴۲ - ۱۹۴۱ میں لکھی گئی ہے۔ کتاب کا سب ٹائٹل مصنف نے ان الفاظ میں تجویز کیا ہے ــ ایک طبیعیات داں کے تاثرات کچھ فلسفیانہ مسائل کے بارے میں:

The reflections of a physicist on some of the problems of philosophy. مصنف نے زیر بحث موضوع کا مطالعہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کائنات کی سائنس نے ہم کو جہاں پہنچا یا ہے اس کے بعد بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت کا دروازہ کھولنا ممکن ہے، بشرطیکہ ہم اس کا دستہ حاصل کر سکیں :

‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues

Printed page