Let us agree to disagree
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۴۱
تھا۔ باہر کے ایک بورڈ سے معلوم ہوا کہ نئی مسجد کی تعمیر کے لئے رقم کی فراہمی جاری ہے۔ مسجد کا وضو خانہ جدید اور صاف ستھرا نظر آیا۔
امام صاحب نے انگریزی میں خطبہ دیا۔ دو خطبوں میں کچھ عربی کلمات کے ساتھ انہوں نے انگریزی میں تقریر کی۔ تقریر کا مضمون آخری حد تک روایتی تھا۔ مجھے یقین نہیں ہے کہ ان کی دونوں تقریروں سے حاضرین کوئی سبق کی بات لے گئے ہوں کیوں کہ سبق کی کوئی بات سرے سے تقریر میں موجود تھی ہی نہیں۔ تقریر کے دوران وہ بار بار آدرپرافٹ صلی اللہ علیہ وسلم کا لفظ بول رہے تھے۔ یہی تمام مسلمانوں کا حال ہے۔ اللہ نے اپنے آخری رسول کو سارے عالم کا پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔ مگر مسلمانوں نے اس کو اپنا پیغمبر بنا دیا۔ کیوں کہ جیسا کہ خطیب نے کہا، مسلمان پیغمبر کو اپنا پرائڈ سمجھتے ہیں۔ اور پرائڈ کی نفسیات کی تسکین کے لئے ضروری ہے کہ اس کو اپنے پیغمبر کی حیثیت سے پیش کیا جائے۔
ایک مجلس میں میں نے کہا کہ دور زوال میں جو خرابیاں پیدا ہوئیں ان میں سے ایک خرابی یہ ہے کہ ہمارے علماءء قرآن وحدیث کو فروعی باتوں پر منطبق کرنا جانتے ہیں مگر وہ ان کو اساسی امور پر منطبق کرنا نہیں جانتے۔ مثلاً حدیث میں ہے کہ من احدث في امرنا هذا ما ليس منه فهو رد ۔ اسی طرح حدیث میں ہے کہ مونچھ کو تراشو اور داڑھی کو بڑھاؤ (اعفوا اللحی وقصوا الشوارب) اب اگر کوئی شخص کہے کہ داڑھی کو تراشو اور مونچھ کو بڑھاؤ تو علما فوراً کہیں گے کہ یہ بدعت ہے۔ مگر زیادہ بڑے بڑے اور اساسی مسائل میں وہ خود احداث (بدعت) میں مبتلا رہتے ہیں اور انھیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔
مانچسٹر میں ایک دیندار مسلمان سے ملاقات ہوئی، گفتگو کے دوران "یونی پولر ورلڈ" کا تذکرہ ہوا۔ انھوں نے غصہ اور تشویش کے انداز میں کہا کہ جارج بش نے کہا ہے کہ اب کسی ملک میں پریذیڈنٹ یا پرائم منسٹر، ہماری مرضی کے بغیر نہیں بن سکتا۔ اس نے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ کے عزائم کتنے خطرناک ہیں۔
میں نے کہا کہ آپ ماشاء اللہ دین دار ہیں۔ یقیناً آپ روزانہ قرآن کی تلاوت کرتے ہونگے۔ کیا آپ نے قرآن میں یہ آیت نہیں پڑھی : قل اللهم مالك الملك تؤتي الملك
‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues