Al-Risala · July 1994 · page 13

خبرنامه اسلامی مرکز ۶۶

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۴، صفحہ ۱۳

۱۳ ٹوکیو (جاپان) کے بدھسٹ اداره (Shakuson kai) کے پریذیڈنٹ کانے هیرو اونو (Rev. Kanehiro Ono) کی آمد کی تقریب میں ۲۵ مارچ ۱۹۹۴ کونئی دہلی کے اچاریہ سوشیل کمار آشرم میں ایک مذہبی میٹنگ ہوئی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور مختصر طور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ۱۴ لندن سے بی بی سی کے نمائندہ مسز قربان علی نے ۲۸ مارچ ۱۹۹۴ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر شرعی عدالت کے قیام سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اس وقت شرعی عدالت سے زیادہ ضروری کام لوگوں میں شرعی مزاج بنانا ہے۔ شرعی مزاج جب تک نہ پیدا ہو شرعی عدالت کا کوئی فائدہ نہیں۔

۱۵ انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس کے اسپیشل کرسپانڈنٹ مسٹر بھاسکر رائے نے ۲۹ مارچ ۱۹۹۴ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ٹیلی فون پر ریکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلمانوں کے تعلیمی مسئلہ سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ مسلمانوں کا مسئلہ نمبر ایک تعلیم ہے۔ اگر ان میں صد فی صد تعلیم آجائے تو بقیہ مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں گے۔

۱۶ ٹائمز آف انڈیا کی نمائندہ مسٹر سکینہ یوسف خان نے ۳۱ مارچ ۱۹۹۴ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو اسلامی مدارس کے بارے میں تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ موجودہ اسلامی مدارس کی اہمیت ملکی اور سماجی اعتبار سے بھی بہت زیادہ ہے۔ کیوں کہ یہ مدارس گویا اخلاق اور کردار پیدا کرنے کے ادارے ہیں۔ یہ سماج میں اخلاقی روایات کو باقی رکھنے کا ذریعہ ہیں۔ اگر یہ مدارس نہ رہیں تو ہمارے سماج میں اخلاقی روایات کا تسلسل ٹوٹ جائے گا۔

۱۷ دہلی کے ویویکانند فاؤنڈیشن (یٹ پر گنج) میں ۱۳ اپریل ۱۹۹۴ء کو راشٹر ایکتا سمیلن ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور مذکورہ موضوع پر ایک تقریر کی۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ باہمی احترام کے ذریعہ ملک میں ایکتا لائی جا سکتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1994 All issues

Printed page