دلیل نبوت
الرسالہ، اگست ۱۹۹۴، صفحہ ۵
دلیل نبوت
قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ اعلم حیث يجعل رسالته (الانعام ۱۲۴)اس اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ اپنی پیغمبری کو کہاں رکھے۔ یعنی پیغمبر کو بھیجنے کے لیے وہ مناسب شخص اور مناسب وقت اور مناسب جگہ کو بخوبی جانتا ہے اور اسی کے مطابق اس نے اپنے پیغمبر کو مبعوث کیا ہے۔
اس آیت میں جعل سے مراد وضع (placement) ہے۔ حضرت ابراہیم نے کعبہ کے وقت یہ دعا کی تھی کہ یا اللہ، تو اسماعیل کی نسل میں ایک نبی پیدا کر (البقرہ ۱۲۹) اس دعا کے ڈھائی ہزار سال بعد محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب مکہ میں پیدا ہوئے۔ گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ وضع رسالت انتہائی موزوں تاریخی لمحہ میں وقوع میں آیا۔ پوری نسل اسماعیل میں سے اس انسان کا انتخاب کیا گیا جو اس منصب کے لیے موزوں ترین تھا۔ وہ اس ملک میں پیداہوئے جو اس کام کے لیے سب سے زیادہ مناسب ملک تھا اور اس وقت خاص میں ان کا ظہور ہوا جب کہ تمام موافق اسباب حیرت انگیز طور پر ایک ساتھ جمع ہو گئے تھے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عظیم کارنامہ انجام دیا وہ حیرت انگیز ہے۔ مگر اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز مختلف موافق اسباب کا وہ اجتماع ہے جو عین آن کی مدت عمر میں بیک وقت ان کے حق میں اکٹھا ہو گئے۔ آپ کے حق میں یہ غیر معمولی تاریخی مساعدت بیک وقت دلیل توحید بھی ہے اور دلیل نبوت بھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس عالم کے پیچھے ایک عظیم ذہن اور عظیم ارادہ والی ہستی موجود ہے۔ نیز یہ کہ یہی وہ ہستی ہے جس نے محمد عربی کو اتنے زیادہ موزوں تاریخی وقت میں اور اتنے زیادہ موزوں جغرافی مقام پر مبعوث فرمایا۔ خدائے عظیم و برتر کے سوا کوئی بھی ایسا کرنے پر قادر نہ تھا۔
کوئی بڑا کارنامہ یا کوئی انقلابی کام انجام دینے کے لیے تین چیزیں انتہائی طور پر ضروری ہیں ــــــــ اعلیٰ قائد، موزوں مقام، موافق تاریخی حالات۔ اسلامی انقلاب کے حق میں یہ تینوں اسباب اعلیٰ ترین صورت میں جمع ہو گئے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم متفقہ طور پر اعلیٰ ترین قائدانہ اوصاف
‹ Previous page Next page › Contents of August 1994 All issues