دلیل نبوت
الرسالہ، اگست ۱۹۹۴، صفحہ ۱۰
۶۳۲ء میں پیغمبر کی وفات کے بعد خلفاء نے عرب بدوؤں کی طاقت کا رخ ایک بامقصداورمنظم منصوبہ فتح کی طرف موڑ دیا۔ نتیجہ نہایت شاندار نکلا۔ ۶۳۶ء میں بازنطینی فوج کو دریائے یرموک کے کنارے ایک جنگ میں شکست ہوئی۔ اس کے بعد فلسطین اور شام کا دروازہ عربوں کے لیے کھل گیا۔ اسکندریہ نے ۶۴۲ء میں ہتھیارڈال دیااورپھرہمیشہ کے لیے مصر کا صوبہ بازنطینیوں کے اقتدار سے نکل گیا۔ اسی درمیان عربوں نے میسوپوٹامیا کے علاقہ میں پیش قدمی کی اور جلد ہی ایرانی فوج کو شکست دے کر ان کی راجدھانی کو فتح کر لیا۔ اس طرح ایرانی شہنشاہیت کی لمبی تاریخ ختم ہوگئی۔ اس وقت کی بازنطینی سلطنت اور ایرانی سلطنت کے کم از کم تین پہلوؤں نے عربوں کے لیے اس شاندار کامیابی کو آسان بنا دیا جس کی وجہ سے انھوں نے اپنے دشمنوں پر فتح حاصل کی۔ اول، دونوں سلطنتیں جنگوں کے نتیجہ میں بالکل ختم ہو چکی تھیں اور ۶۳۲ء سے پہلے انھوں نے اپنی فوجوں کو گھٹا دیا تھا۔ دوم، دونوں ہی سلطنتیں عرب سرحد پر اپنی ماتحت حکومتوں کی مدد بند کر چکی تھیں جنھوں نے پچھلی ایک صدی سے صحرائی بدوؤں کو آگے بڑھنے سے روک رکھا تھا۔ سوم، اور خاص طور پر بازنطینیوں کے معاملہ میں مذہبی اختلافات جنھوں نے شامیوں اور مصریوں کی قسطنطنیہ کے ساتھ وفاداری کو کمزور کر دیا تھا :
At least three aspects of the contemporary situation of Byzantium and Persia account for the phenomenal ease with which the Arabs overcame their `enemies: first, both empires, exhausted by wars, had demobilized before 632; second, both had ceased to support those client states on the frontiers of the Arabian Peninsula that had restrained the Bedouin of the desert for a century past; third, and particularly in reference to Byzantium, religious controversy had weakened the loyalties that Syrians and Egyptians rendered to Constantinople. (3/557)
۵۔ موسموں کی تبدیلی کا تعلق سورج کے گرد زمین کی گردش پر ہے۔ شمسی کیلنڈر اسی کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ چنانچہ شمسی کیلنڈر میں ہر موسم ہمیشہ ایک ہی مہینہ میں آتا ہے۔ مثلاً دسمبر میں ہمیشہ سردی اور جون میں ہمیشہ گرمی۔ مگر قمری کیلنڈر، جس کا سال شمسی سال سے گیارہ دن کم ہوتا ہے، ماہ قمری مہینوں کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ اس لیے قمری کیلنڈر میں مہینے ہمیشہ موسم کے مطابق نہیں ہوتے۔ مثلاً رمضان کا مہینہ کبھی جاڑے کے موسم میں آتا ہے اور کبھی گرمی کے موسم میں۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے جب اللہ کے حکم سے کعبہ کی تعمیر کی اور حج کا نظام
‹ Previous page Next page › Contents of August 1994 All issues