دلیل نبوت
الرسالہ، اگست ۱۹۹۴، صفحہ ۹
۴۔ پیغمبر اسلام کے مشن کا ایک جز یہ تھا کہ اس دور کو دنیا سے ختم کردیں جس کو فرانسیسی مورخ ہنری پرین نے مطلق شہنشاہیت (absolute imperialism) سے تعبیر کیا ہے۔ یہی سیاسی نظام ہے جو قدیم زمانہ میں انسانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ چنانچہ آپ کی پیدائش جزیرہ نمائے عرب میں ہوئی جو اس زمانہ کی دو عظیم ترین شہنشاہیتوں ، رومی ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کے درمیان میں واقع تھا۔
اس مقصد کے لیے آپ کا مقابلہ ان شہنشاہیتوں کے ساتھ پیش آنے والا تھا۔ چنانچہ تاریخی اعتبار سے آپ کا ظہور انتہائی موزوں وقت میں ہوا۔ یہی وہ وقت ہے جب کہ رومیوں اور ایرانیوں کے درمیان پچیس سالہ جنگ (۶۲۸-۶۰۳) پیش آئی۔ یہ دونوں اپنے زمانہ میں ناقابل تسخیر حد تک طاقت ور سلطنتیں تھیں۔ مگر پیغمبر اسلام کی بعثت حیرت انگیز طور پر عین اس زمانہ میں ہوئی جب کہ دونوں سلطنتیں آپس میں لڑ کر تباہ ہو چکی تھیں۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کی طرف قرآن کی سورہ نمبر ۳۰ میں اشارہ کیا گیا ہے (غلبت الروم فى ادنى الارض وهم من بعد غلبهم سيغلبون) پیغمبر اسلام کی پیدائش کے بعد ۶۰۳ میں ایران نے رومی سلطنت پر حملہ کر دیا۔ تباہ کن جنگ کے بعد رومیوں کو شکست ہوئی۔ یہاں تک کہ ۶۱۶ میں یروشلم سمیت رومن ایمپائر کی مشرقی سلطنت کا بڑا حصہ ایرانیوں کے قبضہ میں چلا گیا۔
اس کے بعد قیصر روم کے اندر نیا حوصلہ پیدا ہوا۔ اس نے تیاری کر کے ۶۲۲ میں ایران کے اوپر جوابی حملہ کیا۔ ۶۲۴ء میں اس نے ایران پر فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ ۶۲۷ء میں اس نے اپنے مقبوضہ علاقے دوبارہ ایرانیوں سے واپس لے لیے۔ تاہم ان دو طرفہ لڑائیوں میں دونوں عظیم سلطنتوں کی طاقت ٹوٹ گئی۔ دونوں کمزور ہو کر رہ گئیں۔
یہی وہ زمانہ ہے جب کہ پیغمبر اسلام کا ظہور ہوا۔ آپ نے اور آپ کے بعد آپ کے اصحاب نے دونوں سلطنتوں سے ٹکر لی اور دونوں کو توڑ کر تاریخ میں ایک نئے دور آزادی کا آغاز کیا۔ انسائیکلوپیڈیابرٹانیکا(۱۹۸۴)میں میں بازنطینی ایمپائر (Byzantine Empire) کے نام سے ۲۶ صفحہ کا ایک مقالہ شامل ہے۔ اس کے مصنف بازنطینی تاریخ کے ایک ایکسپرٹ پروفیسر نیکل (Donald MacGillivray Nicol) ہیں ۔ مسلم عہد کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں :
‹ Previous page Next page › Contents of August 1994 All issues