فطرت پر اعتماد
الرسالہ، اگست ۱۹۹۴، صفحہ ۱۸
اپنا مرکز بنا لیا تا کہ وہاں سے اپنا مشن جاری رکھ سکیں۔
اس سے یہ اصول ملتا ہے کہ ایک جگہ کے لوگ اگر ضد اور مخالفت کی آخری حد پر آجائیں تو یہ صحیح نہ ہو گا کہ اہل اسلام وہیں ان سے لڑ کر ہلاک ہو جائیں۔ بلکہ انھیں دوسری مناسب جگہ تلاش کر کے وہاں اپنا اسلامی عمل جاری کر دینا چاہیے۔ یہ طریقہ ایک طرف اصل مشن کے زندہ رہنے کی ضمانت ہے، دوسری طرف اس میں یہ امکان بھی چھپا ہوا ہے کہ 'مدینہ' میں استحکام حاصل کرنے کے بعد مکہ بھی آخر کار قبضہ میں آجائے۔
فطرت پر اعتماد
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو بار بار یہ تجربہ ہو رہا تھا کہ لوگ آپ کے ساتھ برے طریقے سے پیش آتے ہیں۔ اشتعال انگیز کلمات کہنا، پتھر مارنا، راستہ میں رکاوٹ ڈالنا، وغیرہ۔ اس وقت قرآن میں حکم دیا گیا کہ تم برائی کا جواب بھلائی سے دو۔ پھر تم دیکھو گے کہ جو تمہارادشمن تھا وہ تمہارا قریبی دوست بن گیا ہے۔ (فصلت (۳۴)
اس ہدایت میں ایک اہم حقیقت بتائی گئی ہے وہ یہ کہ کوئی انسان بظاہر مخالف اور دشمن کیوں نہ ہو اس کے اندر خدا کی پیدا کی ہوئی فطرت بہر حال موجود رہتی ہے۔
فطرت ہمیشہ حق پسند ہوتی ہے۔ اس طرح گویا ہر ظاہری دشمن کے اندر تمہارا ایک مخفی دوست موجود رہتا ہے۔ اگر تم حق کے داعی ہو تو پیشگی طور پر یہ یقین کر لو کہ تمہاری دعوت کا ایک (counterpart) مثنی یقیناً فریق ثانی کے سینے میں موجود ہوگا۔
مخالف انسان کے اندر اس موافق انسان کو پانے کی یقینی تدبیر یہ ہے کہ تم اس کے برے سلوک کے جواب میں اپنی طرف سے اچھا سلوک کرو۔ تمہارا اچھا سلوک اس کے ظاہری پردے کو ہٹا دے گا۔ اور پھر اندر سے تمہارا ایک دوست انسان نکل آئے گا۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ دور اول میں ہزاروں لوگ صرف اسی اصول پر عمل کرنے کے نتیجہ میں اسلام میں داخل ہوئے۔ مثلاً ایک مشرک نے آپ کو تنہا پا کر آپ کے اوپر تلوار اٹھائی۔ مگر اس پر قابو پانے کے بعد آپ نے اس کو معاف کر دیا۔ اسی وقت اس نے اسلام قبول کر لیا۔ وغیرہ۔ دور اول میں اس طرح کے واقعات کثرت سے پیش آئے جن کو تاریخ کی کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1994 All issues