Al-Risala · August 1994 · page 19

دشمن کو استعمال کرنا

الرسالہ، اگست ۱۹۹۴، صفحہ ۱۹

دشمن کو استعمال کرنا

بدر کی جنگ کے بعد مخالف فوج کے ستر آدمی گرفتار ہو کر مدینہ آئے۔ یہ سب کے سے تعلق رکھتے تھے ۔ اور وہ پڑھے لکھے لوگ تھے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ ان جنگی مجرموں میں سے جو شخص مدینہ کے دس بچوں کو پڑھادے گا وہ اس کا فدیہ ہو گا۔ اور اس کے بعد ہم اس کو رہا کر دیں گے۔ یہ اسلام کی تاریخ میں پہلا اسکول تھا جو اس طرح قائم کیا گیا کہ اس کے طلبہ تو سب مسلمان تھے مگر اس کے ٹیچر سب کے سب دشمن قوم سے تعلق رکھتے تھے۔

پیغمبر کی اس سنت سے یہ اصول ملتا ہے کہ اہلِ اسلام کی سوچ اتنی بلند ہونی چاہیے کہ وہ غیروں سے بھی مفید چیزیں سیکھیں۔ مقصد کے حصول میں وہ دشمن قوم کے افراد کو بھی استعمال کر سکیں۔ امن کی طاقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ امن کی طاقت تشدد کی طاقت سے زیادہ ہے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی میں سب سے زیادہ جس طاقت کو استعمال کیا وہ یہی امن کی طاقت ہے۔ مثال کے طور پر جب کہ فتح ہواتو مکہ کے وہ مخالفین آپ کے پاس لائے گئے جنھوں نے آپ کو ستایا تھا، جنھوں نے آپ کو مکہ سے نکالا تھا۔ جنھوں نے آپ کے خلاف جنگی کارروائی کی تھی۔ اور آپ کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچائی تھیں۔

یہ لوگ ثابت شدہ طور پر جنگی مجرم تھے۔ اور جنگی مجرم کے لیے یہ عام رواج تھا کہ فاتح اس کو قتل مہ . کر دیتا تھا۔ مگر پیغمبر اسلام نے ان کو ملامت کا کلمہ تک نہیں کہا۔ آپ نے سادہ طور پر اعلان فرمایا کہ جاؤ تم سب لوگ آزاد ہو (اذهبوا فانتم الطلقاء)

یہ تشدد کے بجائے امن کی طاقت کو استعمال کرنا تھا۔ یہ جسمانی تسخیر کے، بجائے ضمیر اور قلب کو متاثر کرکے آدمی کو اپنے قابو میں لینا تھا۔ اس اعلیٰ اخلاقی روش کا نتیجہ، راوی کے الفاظ میں یہ ہوا کہ وہ لوگ حرم سے باہر اس طرح نکلے گویا کہ وہ قبروں سے نکلے ہوں ۔ اور پھر وہ اسلام میں داخل ہو گئے (فخرجوا كانما نشروا من القبور ودخلوا في الاسلام)

تھرڈ اپشن

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانہ میں مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان موجودہ اردن

‹ Previous page Next page › Contents of August 1994 All issues

Printed page