Al-Risala · August 1994 · page 23

بصیرت کی ضرورت

الرسالہ، اگست ۱۹۹۴، صفحہ ۲۳

آخر میں آپ کے مخالفین آپ کے مکان کو تلوار لے کر گھیر لیتے ہیں، اس وقت آپ خاموشی سے ہجرت کر کے مدینہ چلے جاتے ہیں۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ یہی مخالفین احد کے موقع پر جب تلوار لے کر آتے ہیں تو آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ان کا مقابلہ کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں اس طرح کے مختلف نمونے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول کے نمونے کو اپنانے کے لیے اس حکمت کو جاننا ضروری ہے کہ کون سا نمونہ کس موقع کے لیے ہے۔ اگر آدمی کے اندر یہ بصیرت نہ ہو تو بظاہر وہ سنت رسول پر عمل کرنے کا دعویٰ کرے گا۔ مگر حقیقتاً وہ سنت رسول سے آخری حد تک دور ہوگا۔

جو شخص سنت کو سمجھنے کی بصیرت سے محروم ہو اس کا حال یہ ہوگا کہ جس موقع پر صبر کی سنت درکار ہوگی وہاں وہ قتال کی آیت کا حوالہ دے گا۔ جن حالات میں دعوت کی سنت مطلوب ہوگی وہاں وہ جہاد کی سنت پر تقریر کرے گا۔ جہاں صلح کی سنت پر عمل کرنا چاہیے وہاں وہ جنگ کی سنت پر عمل کرنے کا نعرہ لگائے گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بلاشبہ بہترین نمونہ ہے۔ مگر یہ نمونہ انھیں لوگوں کے لیے نمونہ بنے گا جو اس معاملہ میں آخری حد تک سنجیدہ ہوں۔ جن میں یہ مزاج نہ ہو کہ وہ اپنی خواہش کے لیے سنت رسول میں غور، تلاش کریں۔ بلکہ سنت رسول کے نمونہ پر اپنی خواہش کو ڈھالیں جو اپنے آپ کو سنت رسول کے سامنے جھکانے کا مزاج رکھتے ہوں جو دل کی پوری آمادگی کے ساتھ رسول کو اپنی زندگی کا ر ہنما بنالیں۔

حیدر آباد میں الرسالہ اور اسلامی مرکز کی کتابیں مندرجہ ذیل پتے سے حاصل کریں :

الرسالہ بک سنٹر اینڈ فری بک لائبریری روم نمبر ۱۰ یوسف بازار چار گھاٹ حیدر آباد ۵۰۰۰۲۴ : فون

‹ Previous page Next page › Contents of August 1994 All issues

Printed page