حديبیہ منہاج
الرسالہ، اگست ۱۹۹۴، صفحہ ۲۹
کر کے اسلام کی صفوں میں داخل ہو جائیں۔
اس صورت حال کا پس منظر یہ ہے کہ عرب کے لوگ (بنو اسماعیل عموماً سادہ مزاج تھے اور اپنی فطرت پر قائم تھے۔ ان کا شرک اوپری قسم کا تھا، وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ ان کے اندر سرایت نہیں کرسکاتھا۔ یہی یہی وجہ ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں کثرت سے ایسے واقعات ملتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا ہے۔ وہ سادہ قسم کے سوالات کرتا ہے اور اس کے بعد یا تو آپ کی صداقت کا اعتراف کر لیتا ہے یا اسی وقت کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیتا ہے۔
مثلاً عمرو بن عبسہ ایک صحابی ہیں۔ وہ اولاً مکہ میں آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے ۔ اور آپ سے کہا کہ جو کچھ اللہ نے آپ کو بتایا ہے اس میں سے مجھے بتائیے (علّمني مَقامَعْتُكَ اللہ)، آپ انھیں توحید ، صلہ رحمی اور حسن اخلاق کی باتیں بتاتے ہیں۔ وہ فوراً کہہ اٹھتے ہیں کہ کتنی اچھی یہ باتیں ہیں جن کے ساتھ اللہ نے آپ کو بھیجا ہے (نعم ما ارسلک الله به) حیاۃ الصحابہ ۱/ ۲۷ اس طرح کے واقعات کثرت سے سیرت اور حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں ۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدیم عربوں کا بگاڑ اوپری نوعیت کا تھا۔ ان کی اصل شخصیت فطری حالت پر قائم تھی اور معمولی تحریک سے حق کو پہچان لیتی تھی۔
قدیم عربوں کی اسی سادگی کا نتیجہ تھا کہ ان کے چند سرداروں کو چھوڑ کر عام عربوں کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار زیادہ تر غلط فہمی کی بنا پر تھا نہ کہ حقیقۃ سرکشی کی بنا پر اپنے اسی مزاج کی بنا پر انھیں یہ جرات ہوئی کہ بدر کی جنگ سے پہلے وہ دعا کریں جس کا ذکر سورہ انفال میں کیا گیا ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ مکہ کے لوگ جب ایک ہزار کی تعداد میں مکہ سے نکل کر بدر کی طرف روانہ ہوئے تاکہ رسول اور اصحاب رسول سے جنگ کریں تو وہ بیت اللہ میں گئے۔ اور کعبہ کے پردے کو پکڑ کر دعائیں کیں۔ اس دعا میں انھوں نے کہا کہ اے اللہ دونوں گروہوں میں سے جو گروہ زیادہ ہدایت پر ہو اور دونوں دینوں میں سے جو دین زیادہ
‹ Previous page Next page › Contents of August 1994 All issues