Al-Risala · August 1994 · page 28

حديبیہ منہاج

الرسالہ، اگست ۱۹۹۴، صفحہ ۲۸

کے جسم کو قتل کیا جاتا ہے ۔ اور حدیبیہ منہاج میں انسانوں کی روح کو مسخر کیا جاتا ہے۔ جنگ کا منہاج یہ ہے کہ دشمن کا خاتمہ کر کے اس کے اوپر قبضہ کیا جائے۔ حدیبیہ منہاج یہ ہے کہ دشمن کو دوست بنا کر اس کو اپنی صف میں شامل کر لیا جائے۔ جنگ کے منہاج میں صاحب منہاج کا ہاتھ لوگوں کی گردن پر ہوتا ہے اور حدیبیہ کے منہاج میں صاحب منہاج کا ہاتھ لوگوں کے قلوب پر ۔ جنگ کا منہاج دوسروں کو مٹا کر اپنا غلبہ قائم کرنا ہے اور حدیبیہ کا منہاج لوگوں کو شریک کر کے حق کو سربلند کرنا ہے۔ جنگ کا منہاج اگر صرف میں کا نام ہے تو حدیبیہ منہاج میں اور آپ دونوں کا نام ۔ جنگ کے منہاج میں نفرت کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے اور حدیبیہ کے منہاج میں محبت کامیابی کی منزل تک پہنچاتی ہے۔ حدیبیہ کا واقعہ نبوت کے تقریباً ۲۰ سال بعد پیش آیا۔ غور کیجئے کہ ایسا کیوں ہوا۔ اس طریقہ کو اختیار کرنے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی۔ حدیبیہ منہاج کے اس پہلو پر غور کیا جائے تو اس سے یک اور عظیم حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے۔

اس معاملہ کا سراغ سورہ الفتح کے مطالعہ سے ملتا ہے۔ اس میں اصحاب رسول کو مخاطب کر کے بتایا گیا ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر جب قریش کے سرداروں نے سرکشی کا مظاہرہ کیا تو یہ ممکن تھا کہ تم کو جنگ کی اجازت دیدی جائے اور اللہ کی مدد سے تمہیں فتح بھی حاصل ہو۔ مگر ایک خاص مصلحت کی وجہ سے تم کو جنگ کی اجازت نہیں دی گئی۔

وہ مصلحت یہ تھی کہ مکہ میں اس وقت بہت سے مرد اور عورت تھے جن کے دل میں اسلام داخل ہو چکا تھا۔ مگر انھوں نے چوں کہ ابھی اپنے اسلام کا اعلان نہیں کیا تھا، اس لئے تم ان کو نہیں جانتے تھے۔ گویا کہ امکانی طور پر وہ مسلمان تھے۔ اگر دونوں فریقوں میں جنگ چھڑتی تو یہ لوگ بھی اس میں مارے جاتے۔ تم لاعلمی میں اہل انکار کے ساتھ اہل اقرار کو بھی پیس ڈالتے۔ اور بلاشبہ یہ بہت بڑا نقصان ہوتا۔ (الفتح ۲۲ - ۲۵ )

پھر فرمایا کہ اللہ نے وہ بات جانی جو تم نے نہ جانی (فعلم ما لم تعلموا)، اس علم کی بنا پر حدیبیہ کے موقع پر یہ ہدایت دی گئی کہ ایک طرفہ شرط ماننا ہو تب بھی اس کو مان کر سرداران مکہ سے صلح کر لو۔ تاکہ ان امکانی مسلمانوں کو یہ موقع مل جائے کہ وہ اپنے پوشیدہ ایمان کا اعلان ۲۸ الرسائل اگست ۱۹۹۴ء

‹ Previous page Next page › Contents of August 1994 All issues

Printed page