حديبیہ منہاج
الرسالہ، اگست ۱۹۹۴، صفحہ ۳۱
بعد اس کی ضرورت نہ ہوگی کہ پانی کے ذخیرہ کو دھکا دے کر آگے بڑھایا جائے۔ اس وقت قریش کی جنگ جوئی اسی قسم کے ایک روک دروازہ (trap door) جیسی ہوگئی تھی ۔ مسئلہ صرف دریائی روک کو ہٹانے کا تھا۔ روک کے ہٹنے کے بعد یقینی تھا کہ ہدایت کا سیلاب اپنے آپ یلغار کر کے لوگوں کے دلوں میں داخل ہو جائے گا۔
قریش سے جنگ جاری رکھنے کے لئے خون کی قربانی درکار تھی۔ اور جنگ کی صورتحال کو ختم کرنے کے لئے وقار کی قربانی کا مسئلہ تھا۔ کیوں کہ جنگ دو طرفہ بنیاد پر ہرگز ختم نہیں ہو سکتی جنگ کو ختم کرنے کی واحد صورت یہ تھی کہ اس کو وقار کا مسئلہ نہ بنایا جائے اور یک طرفہ طور پر اپنے وقار کی قربانی دے کر قریش کے سے صلح کر لی جائے۔ صلح حدیبیہ اسی قسم کا ایک دور رس معاملہ ہے۔
حدیبیہ منہاج یہ ہے کہ مدعو کی طرف سے جب رکاوٹ ختم نہ کی جارہی ہو تو داعی یک طرفہ جھکاؤ کے ذریعہ اپنی طرف سے رکاوٹ کا خاتمہ کر دے۔
اس وقت صورتحال یہ تھی کہ مسلمان اپنے سینہ میں یہ غم لئے ہوئے تھے کہ مکہ کے سرداروں نے ان کو ان کے وطن سے نکالا۔ ان کے گھروں اور جائیدادوں پر قبضہ کیا۔ لڑائیاں چھیڑ کر ان کی عورتوں کو بیوہ اور ان کے بچوں کو یتیم کیا۔ مکہ جا کر عمرہ کرنے میں رکاوٹیں ڈالیں۔ اس قسم کے واقعات انہیں اس پر اکسارہے تھے کہ قریش سے لڑ کر انتقام لیں اور انھیں ان کے کئے کا سبق دیں۔
دوسری طرف یہ صورت حال تھی کہ اگر مسلمان اپنے غموں اورشکایتوں کو بھلا دیں اور اپنے شکایتی جذبات کو دبا کر یک طرفہ طور پر خاتمہ جنگ کے لئے راضی ہو جائیں تو اس کے بعد معتدل فضا پیدا ہو جائے گی۔ معتدل فضا پیدا ہونے کے بعد اسلام کے تعارف کا کام تیزی سے بڑھ جائے گا۔ لوگ جو پہلے ہی سے اسلام کے قریب آ چکے ہیں، حالات کی موافقت انھیں تیزی سے اسلام کی طرف لانا شروع کر دے گی۔
قتال نام ہے خون کی قربانی دے کر اسلام کا دفاع کرنے کا۔ حدیبیہ نام ہے وقار کی قربانی دے کر خدا کے بندوں کے لئے خدا کے دین کا دروازہ کھولنے کا یہی فرق
‹ Previous page Next page › Contents of August 1994 All issues