حديبیہ منہاج
الرسالہ، اگست ۱۹۹۴، صفحہ ۳۲
یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ ثانی الذکر قربانی اول الذکر قربانی سے زیادہ عظیم ہے۔ مسلم نے ابوہریرہؓ کے واسطہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پسند ہے کہ ہم اپنے اخوان (بھائیوں) کو دیکھیں۔ صحابہ نے کہا کہ کیا ہم آپ کے اخوان نہیں ہیں اے خدا کے رسول۔ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ میرے اصحاب ہو۔ ہمارے اخوان وہ لوگ ہیں جو ابھی نہیں آئے رَوَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا۔ اخواننا۔ قالوا اَولسنااخوانَک یارسول اللہ ۔ اللّٰہ۔ قال انتم أصحابی و إخواننا الذین لم یأتوا بعد الدارمی نے روایت کیا ہے کہ ابو عبیدہ بن الجراح نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا امت میں کوئی ہم سے بہتر ہے۔ ہم آپ پر ایمان لائے۔ اور آپ کے ساتھ جہاد کیا۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ وہ لوگ جو میرے اوپر ایمان رکھیں اور انھوں نے مجھ کو دیکھا نہ ہوگا (قلت یا رسول الله احد خير منا - آمنَابِك وَجَاهَدنا معك - قال نعم قوم يؤمنون بی ولم يَروُنى جامع الاصول فی احادیث الرسول ۲۰۶/۹ - ۲۰۷ اس حدیث میں لم يَرُونی محض لفظی معنوں میں نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ ایک ایسا پیغمبر جو بعد کے زمانہ میں تاریخ کی سب سے بڑی شخصیت بننے والا ہو، جس کی عظمت مسلمہ عظمت کا درجہ حاصل کرنے والی ہو، اس کو ماننا کوئی امتیازی خصوصیت کی بات نہیں ہو سکتی۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس کو کسی معنوی مفہوم میں لیا جائے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جس پیغمبر کی نشاء کو دور اول کے اصحاب رسول نے براہ راست طور پر پیغمبر کو دیکھ کر اور اس سے سن کر مانا تھا، اس پیغمبر کی نشاء کو بعد کے اخوان رسول دیکھے اور سنے بغیر ذاتی دریافت کے ذریعہ معلوم کریں گے۔ اس معاملہ کی وضاحت ایک مثال سے بخوبی ہوتی ہے۔
اصحاب رسول کے سامنے بدر اور احد کا محاذ آیا۔ یہ محاذ جان کی قربانی کا طالب تھا۔ اصحاب رسول نے بلاتأمل یہ قربانی پیش کر دی۔ پیغمبر کا اشارہ پاتے ہی وہ بدر و احد کے میدان جہاد میں کود پڑے۔ پھر کسی کو اللہ نے شہادت دی، اور کوئی اس سے غازی بن کر واپس آیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1994 All issues