خودی ہے تیغ فساںلاالٰہ الااللہ
الرسالہ، اگست ۱۹۹۴، صفحہ ۳۶
تردید کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے موت پر بیعت نہیں لی۔ بلکہ اس بات پر بیعت لی کہ ہم بھاگیں گے نہیں (ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لم يبايعنا على الموت ولكن بایعناعلی ان لا نفر )، البداية والنهاية ۴ / ۱۶۸۔
تمام سیرت نگاروں نے بیعت الرضوان کا یہی مفہوم لیا ہے۔ الفاظ اور سیاق کے مطابق اس کا کوئی اور مفہوم نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ ابن قیم نے اپنی مشہور کتاب زاد المعاد میں بیعت الرضوان کے تذکرہ کے تحت یہ الفاظ لکھے ہیں: فبايعوه على ان لا يفروا۔
روایات میں آتا ہے کہ اس کے بعد قریش مکہ نے سہیل بن عمروکواپناسفیربناکررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ سہیل بن عمرو ایک اعتدال پسند آدمی تھے اوربعد کوانھوںنے اسلام بھی قبول کر لیا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سہیل کو آتے ہوئے دیکھا تو آپ مطمئن ہو گئے اور فرمایا کہ قریش نے جب سہیل کو گفت و شنید کے لیے بھیجا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ صلح چاہتے ہیں۔
حدیبیہ کے سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کامل امن پسندی کا مظاہرہ کیا۔ فریق ثانی کی مشتعل انگیزی کے باوجود آپ اشتعال نہیں ہوئے۔ ٹکراؤ کے ہر موقع سے یک طرفہ طور پر اعراض کرتے رہے۔ مثلاً دورانِ سفر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ قریش کا ۲۰۰ سواروں کا دستہ مکہ سے روانہ ہو کر آپ کی طرف آ رہا ہے۔ آپ کو جب اس کی خبر ملی تو آپ نے اصحاب سے یہ نہیں فرمایا کہ جنگ کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ بلکہ آپ نے اپنا راستہ بدل دیا۔ اس طرح قریش کی فوج سے ٹکراؤ کی نوبت نہیں آئی۔
اپنی جماعت کے سب سے زیادہ نرم مزاج آدمی کو اس سفارت کے ساتھ بھیجا کہ ہم صلح کرنے کے لئے تیار ہیں۔ پھر جب قتل کی خبر ملی اس وقت بھی آپ نے ایسا نہیں کیا کہ خبر ملتے ہی قریش کے اوپر ٹوٹ پڑیں. بلکہ اپنے مقام پر ٹھہر کر لوگوں سے صرف اس بات کی بیعت لی کہ ہم یہیں جلے رہیں گے. قریش اگر خود سے لڑنے کے لئے آتے ہیں تو مقابلہ کریں گے ۔ اور اگر وہ صلح پر راضی ہوتے ہیں تو صلح کر لیں گے ۔ خواہ یہ صلح یکطرفہ شرطوں پر کیوں نہ ہو ، جیسا کہ آپ نے عملاً کیا۔ بیعت الرضوان کے باوجود صلح کر لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بیعت اصلا جنگ کے لئے نہ تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1994 All issues