Al-Risala · August 1994 · page 37

خودی ہے تیغ فساںلاالٰہ الااللہ

الرسالہ، اگست ۱۹۹۴، صفحہ ۳۷

اگر وہ جنگ کے لئے ہوتی تو نا ممکن تھا کہ اس کے بعد آپ اپنے دشمن سے یکطرفہ شرطوں پر صلح کر لیں۔ حضرت عثمان بن عفان جب گئے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کی حیثیت سے وہاں گئے تھے۔ بین الاقوامی رواج کے مطابق ، سفیر کا قتل اعلانِ جنگ کے ہم معنی ہوتا ہے۔ جب یہ خبر ملی کہ قریش نے آپ کے سفیر کو قتل کر دیا ہے تو قدرتی طور پر آپ نے اس کا مطلب یہ سمجھا کہ قریش اب آخری طور پر آمادہ جنگ ہو چکے ہیں، وہ کسی حال میں صلح اور امن کا معاملہ کرنے پر راضی نہیں ہیں۔ اس خبر نے وقتی طور پر صورتِ حال کو یکسر بدل دیا۔

ابتدائی صورتحال کے مطابق ، آپ کے سامنے صلح یا جنگ میں انتخاب (چوائس) کا مسئلہ تھا۔ اس وقت آپ نے جنگ کو چھوڑ کر صلح کا انتخاب فرمایا تھا۔ مگر قتلِ سفیر کی خبر نے ظاہر کیا کہ اب فرار یا جنگ میں سے کسی ایک صورت کے انتخاب (چوائس) کا مسئلہ در پیش ہے۔ یعنی قریش کسی حال میں بھی صلح پر راضی نہیں ہیں۔ وہ ہر حال میں جنگ کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت آپ نے اپنے اصحاب سے عدمِ فراراوربصورتِ جارحیت دفاع کی بیعت لی۔ مگر جب معلوم ہوا کہ یہ خبر غلط تھی تو پھر دوبارہ آپ جنگ کو چھوڑ کر صلح پر راضی ہو گئے ۔ حالاں کہ یہ صلح آپ کو دشمن کی یکطرفہ شرطوں پر کرنی پڑی۔

بیعتِ الرضوان کا پیغام یہ ہے کہ تمہارے لئے اگرانتخاب (چوائس) فرار اور جنگ کے کے درمیان ہوتوفرارکوچھوڑکرجنگ کاطریقہ اختیارکرو۔ اوراگرتمہارے لئے انتخاب (choice) صلح اور جنگ کے درمیان ہو تو جنگ کو چھوڑ کر صلح کا طریقہ اختیار کرو ، خواہ یہ صلح فریقِ ثانی کی یکطرفہ شرائط پر ہی کیوں نہ ہو۔ مزید یہ کہ فرار کے مقابلہ میں عدمِ فرار کو اختیار کرنے کا حکم بھی مشروط حکم ہے نہ کہ مطلق حکم۔ کیوں کہ حدیبیہ (۵ھ) میں آپ نے فرار کے مقابلہ میں عدمِ فرار کا فیصلہ فرمایا۔ مگر اس سے پہلے مکہ (۱ھ) میں اسی طرح کی صورت حال میں آپ نے وہاں سے ہجرت فرمائی۔ صبر کی اہمیت حدیبیہ در اصل عدم تشدد کی پالیسی کا دوسرا نام ہے۔ اسی پالیسی کا نام صبر ہے۔ اسلام میں صبر کی بے حد اہمیت ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کو صبر سے زیادہ بہتر اور کشادہ عطیہ نہیں دیا گیا (وما أعطى احد عطاء خير أو اوسع من الصبر) فتح الباری شرح صحیح البخاری ۳۹۶۳

‹ Previous page Next page › Contents of August 1994 All issues

Printed page