ماہِ الرساں اگست ۱۹۹۳ء
الرسالہ، اگست ۱۹۹۴، صفحہ ۴۳
(invalid) تھا۔ اس لیے ان کو فرضی توجیہات (pseudo-explanations) کہہ کر رد کر دیا گیا۔ علم کی دنیا میں تقریباً سو سال تک یہ فکری ہنگامہ جاری رہا۔ مگر اس نقطۂ نظر میں فکری وزن صرف اس وقت تک تھا جب تک انسانی علم کی رسائی عالم کبیر (macro-world) تک محدود تھی۔ بیسویں صدی کے آغاز میں جب انسانی علم کی رسائی عالم صغیر (micro-world) تک پہنچ گئی تو ساری صورتِ حال یکسر بدل گئی۔
اب معلوم ہوا کہ براہِ راست استدلال کا میدان بہت محدود ہے۔ نئے حقائق جو انسان کے علم میں آرہے تھے وہ اتنے لطیف تھے کہ صرف استنباطیاً بالواسطہ استدلال ہی وہاں قابلِ عمل نظر آتا تھا۔ مثال کے طور پر جرمن سائنس داں رانٹجن(Wilhelm (Wilhelm Conrad Rontgen) نے ۱۸۹۵ میں ایک تجربہ کے دوران پایا کہ اس کے سامنے کے شیشہ پر کچھ اثرات (effect) ظاہر ہو رہے ہیں جب کہ اس کے تجربہ اور اس شیشہ کے درمیان کوئی معلوم رشتہ موجود نہ تھا۔ اس نے کہا کہ یہاں ایک ناقابلِ مشاہدہ شعاع (invisible radiation) ہے جو ۱۸۶۰۰۰ میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کر رہی ہے۔ اس کی نامعلوم نوعیت (unknown nature) کی بنا پر رانجن کے اس کا نام اکسرے (X-rays) رکھ دیا (19/1058)
بیسویں صدی میں اس طرح کے کثیر حقائق سامنے آئے جن کا براہِ راست مشاہدہ ممکن نہ تھا مگر ان کے بالواسطہ اثرات کی بنا پر ان کے وجود سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس لیے جدید علماء مجبورہوئے کہ براہِ راست استدلال کے ساتھ استنباطی استدلال کو بھی ایک معقول استدلالی معیار کے طور پر تسلیم کریں۔ کیوں کہ اس کے بغیر اکسریز کی تشریح نہیں کی جاسکتی تھی۔ اس کے بغیر ایٹم کے سائنسی ڈھانچہ کو ماننا ممکن نہ تھا۔ اس کے بغیر بلیک ہول یا ڈارک میٹر کے وجود کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا تھا۔ وغیرہ۔ معیارِ استدلال میں اس توسیع کے بعد دینی معتقدات پر استدلال اتنا ہی معقول (valid) بن گیا جتنا کہ سائنسی نظریات پر استدلال۔ جس استنباطی منطق سے سائنس کے جدید نظریات ثابت کیے جارہے تھے عین اسی استنباطی منطق سے دینی عقیدہ بھی ثابت ہو رہا تھا۔
اس طرح چودہ سو سال پہلے قرآن کا یہ اعلان دوبارہ تاریخ میں قائم ہو گیا کہ انسانی افکار میں کوئی بھی تبدیلی اسلام کی حقانیت کو رد نہ کر سکے گی۔ آئندہ آنے والا کوئی بھی انقلاب
‹ Previous page Next page › Contents of August 1994 All issues