Al-Risala · August 1994 · page 44

ماہِ الرساں اگست ۱۹۹۳ء

الرسالہ، اگست ۱۹۹۴، صفحہ ۴۴

صرف دین خداوندی کی تصدیق کرے گا۔ وہ کسی بھی حال میں اس کی تردید کرنے پر قادر نہ ہوگا۔ ۲۔ تیسرا فکری انقلاب جس سے بعد کی تاریخ میں اسلام کا سابقہ پیش آیا وہ سیکولرزم ہے۔ یہ فکر یورپ کی نشأۃ ثانیہ کے ساتھ شروع ہوا۔ یہ سیکولرزم یک ایسی تحریک تھی جو بعد کو آنے والی دنیا کے بجائے موجودہ مادی دنیا کو ساری اہمیت دیتی تھی :

... a movement in society directed away from other worldlines to this worldlines. (X/19)

سیکولرزم کا نظریہ جدید دنیا پر ایک طاقتور سماجی اور سیاسی فکر کی حیثیت سے چھاگیا۔ نظری اعتبار سے اگرچہ اس کا مطلب یہ تھا کہ کسی ملک کی اجتماعی پالیسی مذہبی امور میں عدم مداخلت (non-interference) کی بنیاد پر قائم کی جائے۔ مگر علأوہ ایک زبردست مخالف مذہب (anti-religious) طاقت بن گیا۔ یہ معلوم ہونے لگا کہ سیکولرزم کی لہر اولاً مذہب کو زندگی کے حاشیہ کی طرف دھکیل دے گی ، اور اس کے بعد ایک غیر حقیقی نظریہ کی حیثیت سے مذہب کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا۔ مگر قرآن کی پیشین گوئی دوبارہ فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ معلوم ہوا کہ دین خدا وندی کا تعلق انسان کی ابدی فطرت سے ہے۔ مذہب کا احساس انسان کے لیے اسی طرح ناقابل تغیر ہے جس طرح پیاس کا احساس انسان کے لیے ناقابل تغیر ہے۔ سیکولرزم کی بنیاد پر بننے والے وسیع ترین ادارے اور انتہائی طاقت ور حکومتیں بھی اس میں کامیاب نہ ہو سکیں کہ انسان خدائی دین کو چھوڑ کر سیکولرزم کو اپنا مذہب بنالے۔

اس سلسلہ میں ایک سبق آموز تجربہ وہ ہے جس کی مثال ترکی میں ملتی ہے۔ کمال اتاترک نے ترکی میں سیاسی اقتدار حاصل کرنے کے بعد ۱۹۲۴میں اسلامی خلافت کے خاتمہ کا اعلان کر دیا۔ انھوں نے جارحانہ سیکولرزم کو ملک کی پالیسی قرار دیا۔ انھوں نے ریاستی طاقت کے زور پر تمام دینی مدرسے اور تمام دینی ادارے ایک لخت بند کر دیے۔ انھوں نے نئی قانون سازی کے ذریعہ ترکی کا پورا نظام لادینیت کی بنیاد پر قائم کر دیا۔ حتی کہ ترکوں کے قدیم لباس کو بھی بزدر تبدیل کرکے انھیں یورپی لباس پہننے پر مجبور کر دیا۔ اس سلسلہ میں ہر مخالفت کو طاقت کے ذریعہ کچّل دیا گیا۔

اتاترک کے انتقال کے بعد ان کے ساتھی عصمت انونو (م ۱۹۷۳ء) ترکی کے صدر مقرر ہوئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1994 All issues

Printed page