Al-Risala · August 1994 · page 45

Karl Marx makes room for Muhammad.

الرسالہ، اگست ۱۹۹۴، صفحہ ۴۵

اُنھوں نے بھی پوری وفاداری کے ساتھ اتاترک کی جارحانہ سیکولر پالیسی جاری رکھی۔ مگر تقریباََ پچاس سال کی مخالفِ اسلام حکومتی مہم کے باوجود ترکی میں اسلام زندہ رہا۔ اتاترک کی اسلام ختم کرنے کی پالیسی مکمل طور پر نا کام ہو گئی۔ حتیٰ کہ خود عصمت انونو کو اپنی آخر عمر میں اس کا اعتراف کرنا پڑا۔ عصمت انونو جب مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو آخر وقت میں انھوں نے اس معاملہ میں اپنا جو تاثر بیان کیا وہ عربی رپورٹ کے مطابق یہ تھا :

اننی لا اکاد اصدق ما اری۔ لقد با لناكل میرے لیے اس پر یقین کرنا مشکل ہے جس کو میں دیکھ ما نستطيع لا نزاع الاسلام من نفوس رہا ہوں۔ ہم نے اپنے بس بھر تمام کوشش کی کہ ترکوں الاتراك وغرس مبادئ الحضارة الغربية کے دل سے اسلام کو نکال دیں۔ اور اس کی جگہ مغربی مكانه - فاذ٦ بنا تفاجأ بما لم نكن نتوقعه۔ تہذیب کو ان کے اندر داخل کر دیں۔ مگر حیرت انگیز فقد غر سنا العلمانية فاثمرت الاسلام طور پر نتیجہ ہماری توقع کے خلاف نکلا۔ چنانچہ ہم نے (الوعی الاسلامی ، ذوالقعده ۵۱۳۰۸) تو سیکولرزم کا پودا بویا مگر پھل نکلا تو وہ اسلام تھا۔ اس سلسلہ میں دوسری نا کام مثال سوویت یونین کی ہے۔ اس علاقہ میں اولاً فکری طور پر اور پھر ۱۹۱۷ء سے طاقت ور حکومت کے زور پر اسلام کو مٹانے کی کوشش کی گئی۔ مجموعی طور پر یہ کوشش تقریباً ایک سو سال تک جاری رہی۔ مگر ۱۹۹۱ میں خود کمیونسٹ ایمپائر ٹوٹ گیا۔ اور اس کے بعد حیرت انگیز طور پر اس کے ملبہ سے اسلام زندہ حالت میں نکل آیا۔

امریکی میگزین ٹائم (۱۲ مارچ ۱۹۹۰) نے سوویت علاقہ کے بارہ میں ایک رپورٹ شائع کی تھی ۔ اس رپورٹ کا خاص مقصد یہ معلوم کرناتھاکہ نئے روس میں مذہب کی حیثیت کیا ہے۔ اس سلسلہ میں اس نے ۵۵ ملین سوویت مسلمانوں کا بھی جائزہ لیا تھا۔ اس نے بتایا تھا کہ اس علاقہ میں اسلام دوبارہ نئی طاقت کے ساتھ زندہ ہوگیا ہے۔ اس با تصویر رپورٹ کی سرخی معنی طور پر تھی ـــــــ کارل مارکس محمد کو جگہ دیتا ہے :

Karl Marx makes room for Muhammad.

اسلام کے خلاف تاریخ کا ہر چیلنج صرف یہ ثابت کر رہا ہے کہ اسلام ابدی طور پر ایک دین مستحکم ہے، اس کو کوئی زیر کرنے والا نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1994 All issues

Printed page