ترقی کے آداب
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۹
ترقی کے آداب
اس دنیا میں ہر آدمی ترقی کرنا چاہتا ہے، مگر بہت کم آدمی ہیں جو فی الواقع کوئی بڑی ترقی حاصل کرتے ہوں، زیادہ لوگ معمولی یا اوسط درجہ کی زندگی گزار کر مر جاتے ہیں۔ اس کا سبب کیا ہے، کیا کچھ لوگ خوش قسمت پیداکئے گئے ہیں اور کچھ لوگ پیدائشی طور پر محروم اور بد قسمت ہیں، ایسا نہیں ہے، ایسا کہنا خدا پر بے انصافی کا الزام عائد کرنا ہے، اور خدا کبھی کسی کے ساتھ بے انصافی کا معاملہ نہیں کرتا۔
اصل یہ ہے کہ ہر آدمی اعلیٰ صلاحیت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ ہر آدمی بڑی بڑی ترقیوں کا امکان اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔ جو آدمی عقلمندی کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتا ہے وہ اعلیٰ ترقی حاصل کرتا ہے۔ اور جو آدمی اپنی خدا داد صلاحیتوں کو استعمال نہیں کرتا، یا اسی کے ساتھ مہلک نادانیاں بھی کرتا رہتا ہے وہ کامیابی اور ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ مثلاً کچھ لوگ چھلانگ لگانے کی فکر میں پڑے رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض اوقات غیر دانش مندانہ طور پر چھلانگ لگا کر اپنا ہاتھ پاؤں توڑ لیتے ہیں۔ ۔ حالاں کہ اس دنیا میں ترقی ہمیشہ لمبی محنت اور مستقل کوشش سے ملتی ہے۔ وقتی چھلانگ لگانے سے کسی کو ترقی نہیں مل سکتی۔ کچھ لوگ دوسروں سے چھین جھپٹ میں ترقی کا راز سمجھتے ہیں۔ دیں۔ حالاں کہ یہ بہت بڑی بھول ہے۔ دوسرے کی چیز کبھی آپ کی چیز نہیں بن سکتی۔ اگر بالفرض آپ کسی غلط تدبیر سے دوسرے کی چیز کو ہڑپ کر لیں۔ دوسرے کی چیز پر ناجائز قبضہ کر کے بیٹھ جائیں تو اس طرح آپ کبھی ترقی کا مقام نہیں پا سکتے۔ یہ قدرت کے قانون کے خلاف ہے۔ قدرت کا قانون جلد یا بدیر آپ کو رسوا کر کے رکھ دے گا۔ وہ آپ کی آئندہ نسلوں تک کو ترقی اور کامیابی سے محروم کر کے چھوڑ دے گا۔ کچھ لوگوں کی ترقی اس لئے رک جاتی ہے کہ وہ حرص اور خود غرضی میں حد سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ وہ چاہنے لگتے ہیں کہ سب کچھ اپنی ذات کے لئے سمیٹ لیں، دوسروں کو کچھ نہ ملنے دیں۔ حالانکہ اس دنیا کو بنانے والے نے اُس کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں دینے والا پائے، دوسروں کو نفع پہنچانے والا خود بھی نفع اٹھائے۔ اپنی کمائی میں دوسروں کا حصہ لگانے والا دوسروں کی کمائی میں ۹ الرازی ستمبر ۱۹۹۳ء
‹ Previous page Next page › Contents of September 1994 All issues