ترقی کے آداب
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۱۰
حصہ دار بنے۔
کچھ لوگ حسد اور جلن میں پڑ کر اپنی ترقی کا راستہ روک لیتے ہیں۔ جب وہ کسی کوابھرتاہوادیکھتے ہیں تو اس کی کاٹ میں لگ جاتے ہیں۔ وہ اس کی کامیابیوں پر جلنے لگتے ہیں۔ حالاں کہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ آپ دوسروںکوآگے بڑھتاہوادیکھیںتوآپ بھی آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ دوسروں کی ترقی سے آپ کے اندر شوق پیدا ہونا چاہئے کہ حسد۔
بڑی ترقی حاصل کرنے کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ آپ دوسروں کو ساتھ لے کر چل سکیں۔ کوئی بھی آدمی اکیلے اکیلے بڑی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ آپ اگر بڑی ترقی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو دوسروں کا دل جیتنا ہوگا، دوسروں کے اندر اپنا اعتماد پیدا کرنا ہوگا۔ اس طرح رہنا ہوگا کہ دوسرے لوگ آپ کو اپنا سچا خیر خواہ سمجھیں۔ آپ کو ایسا بننا ہوگا کہ جو کچھ آپ اپنے لئے پسند کرتے ہیں وہی آپ دوسروں کے لئے بھی پسند کریں۔ اور جو کچھ آپ کو اپنے لئے پسند نہیں ہے وہ آپ کو دوسروں کے لئے بھی پسند نہ ہو۔
اس دنیا میں ترقی ہر آدمی کا حق ہے۔ ترقی ہر آدمی کا مقدر ہے۔ ترقی ہر آدمی کے لئے لکھ دی گئی ہے۔ مگر ترقی صرف اس کے لئے ہے جو ترقی کے اصول اور آداب کو جانے اور ان کو درست طور پر اپنی زندگی میں استعمال کرے۔
زلزلہ قدرت کا ایک مظہر ہے۔ دنیا کے اکثر حصوں میں زلزلے آتے رہتے ہیں۔ پہلے جب زلزلہ آتا تھا تو بہت زیادہ جانی نقصان ہوتا تھا۔ مگر اب ترقی یافتہ ملکوں، مثلاً جاپان، کیلی فورنیا (امریکہ) وغیرہ میں زلزلہ آتا ہے تو بہت کم آدمی مرتے ہیں۔
اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مطالعہ اور تجربہ سے لوگوں نے جانا کہ زلزلہ میں جان کا نقصان زیادہ تر مکانوں کے گرنے سے ہوتا ہے۔ اس کاحل زیادہ پختہ یا زیادہ مضبوط مکان بنانا نہیں ہے۔ کیوں کہ زلزلہ کے مقابلہ میں کوئی بھی مکان مضبوط نہیں۔ اسی طرح اس کا یہ حل بھی نہیں تھا کہ زلزلہ کے خلاف شکایت اور احتجاج کیا جائے ۔ کیوں کہ زلزلہ نیچر کے قانون کے تحت آتا ہے، اور نیچر کے خلاف احتجاجی شور وغل کبھی موثر نہیں ہو سکتا۔
ترقی یافتہ ملکوں میں اس مسئلہ کا حل یہ نکالا گیا کہ وہ لوگ اپنے مکان نہ زیادہ پختہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 1994 All issues