اسلام دور جدید میں
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۱۴
اسلام دور جدید میں
موجودہ زمانہ کے ماہرین علم الانسان عام طور پر مذہب کا مطالعہ ایک سماجی مظہر کے طور پر کرتے ہیں۔ یہ بات اسلام کے لئے درست نہیں۔ اسلام سماجی حالات کی پیدا وار نہیں ہے۔ اسلام ایک الہامی مذہب ہے۔ اور اس بنا پر وہ ابدی طور پر ایک مقدس مذہبی نظام کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے کے لئے اس کی اس مخصوص نوعیت کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ زمانہ تو بدلتا رہتا ہے۔ پھر بدلے ہوئے زمانہ میں اسلام کا انطباق کس طرح ہوگا۔ اسلام کو تغیر پذیر دنیا کے مطابق کس طرح بنایا جائے۔ اس کا جواب قرآن اور دوسرے مذاہب کی مقدس کتابوں، مثلاً بائبل، کا مطالعہ کر کے با آسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ اسلام دوسرے مذاہب کی طرح لا تعداد تفصیلات کا مجموعہ نہیں ہے۔ اس کے برعکس اسلام زیادہ تربنیادی قدروں کامجموعہ ہے اور زمانی تبدیلی کا ٹکڑا اور ہمیشہ تفصیلات کے ساتھ پیش آتا ہے نہ کہ بنیادی اقدار کے ساتھ۔
مثلاً اسلام میں توحید کی تعلیم دی گئی ہے۔ اور توحید ایک اصول کی حیثیت سے بلاشبہ ایک ابدی حقیقت ہے۔ اسی طرح اسلام میں بعض سنگین سماجی جرائم کے لئے مانع سزا (deterrent punishment) کا قاعدہ مقرر کیا گیا ہے۔ یہ بھی ایک ایسی حقیقت ہے جس میں حالات کی تبدیلی سے کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ کم از کم اب تک ایسا فرق حقیقی طور پر ثابت نہیں ہو سکا ہے۔ آج بھی سنگین جرائم کی روک تھام کے لئے مانع سزاؤں کے اصول کو تسلیم کیا جاتا ہے۔
موجودہ زمانہ میں کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام میں اصلاح (reform) کی ضرورت پیش آگئی ہے۔ مگر یہ صرف غلط فہمی کی بنا پر ہے۔ اس سلسلہ میں جو مثالیں دی جاتی ہیں ان کا تعلق خود اسلام سے نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے اپنے اضافہ سے ہے۔ اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے اپنے اضافے سے اسلام کو پاک کرنے کی ضرورت ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1994 All issues