Al-Risala · September 1994 · page 15

اسلام دور جدید میں

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۱۵

خود اسلام میں اصلاح یا نظر ثانی کی ضرورت اس سے ثابت نہیں ہوتی۔

مثلاً موجودہ زمانہ میں مسلم علماء کے ایک طبقہ نے مغربی علوم کو پڑھنے کو غیر اسلامی قرار دیا۔ یہ ان علماء کا غلط فیصلہ تھا۔ اس کا کوئی تعلق اسلام سے نہ پہلے تھا اور نہ اب ہے۔ یہی معاملہ جمہوریت کا ہے۔ بعد کے زمانہ میں کچھ مسلم قوموں میں بادشاہت کا نظام قائم ہو گیا۔ آج بھی کئی مسلم ملکوں میں ایسا ہی سیاسی نظام پایا جاتا ہے۔ مگر وہ کسی درجہ میں اسلامی تعلیمات کا نتیجہ نہیں۔ وہ ایک سیاسی بگاڑ ہے جو بعد کو مسلم ملکوں میں پیش آیا۔ اسلام کا اصل نمونہ وہ ہے جو رسول اور اصحاب رسول کے زمانہ میں قائم ہوا تھا۔ اور یہ ایک معلوم تاریخی حقیقت ہے کہ اسلام کے اس ابتدائی دور میں اعلیٰ ترین جمہوری نظام قائم تھا ، جس کو قرآن میں شورائی نظام کہا گیا ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام ہی وہ نظام ہے جس نے تاریخ میں پہلی بار بادشاہت کو ختم کرکے جمہوریت کی بنیاد پر سیاست کا نظام قائم کیا۔ اس تاریخی حقیقت کو فرانسیسی مورخ ہنری پرین نے نہایت فراخ دلی کے ساتھ تسلیم کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں اصلاح کی ضرورت ثابت کرنے کے لئے جو مثالیں پیش کی جاتی ہیں ان کا تعلق اسلام میں اصلاح سے نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے اپنے عملی انحرافات میں اصلاح سے ہے۔ اس قسم کا عمل یقینی طور پر ضروری ہے۔ مگر ایک اور زیادہ صحیح لفظوں میں ، خارجی اور اجنبی اثرات سے اسلام کو پاک کرنا ہوگا نہ کہ خود اسلام کی اصلاح کرنا۔

تاہم زمانہ کی تبدیلی سے حقیقی اسلام کے لئے بھی بعض اوقات مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہی وہ مسائل ہیں جن کے لیے اجتہاد کی ضرورت پیش آتی ہے۔ مگر یہاں اجتہاد سے مراد اسلام کے حکم کا دوبارہ انطباق (reapplication) ہے نہ کہ اسلام کے اصل احکام میں تبدیلی یا اصلاح۔

مثلاً دورِ اول کے اسلام میں تاریخوں کے تعین کے لئے چاند کی رویت پر بنیاد رکھی گئی تھی۔ اب فلکیاتی مشاہدہ کے نئے علمی ذرائع دریافت ہونے کے بعد رصد گاہ کے کے ذریعہ کلنڈر کا تعین کیا جائے گا۔ تاہم جیسا کہ عرض کیا گیا یہ اسلام کی اصلاح یا اس کو آپ ڈیٹ

‹ Previous page Next page › Contents of September 1994 All issues

Printed page